الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 304 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 304

298 حيات : وحئ قرآن کی روشنی میں میں حادثاتی نہیں ہے۔اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ زندگی کی بقا کیلئے ایک جامع اور مکمل منصوبہ زیر تکمیل ہے اور جس پر حیات کی پوری تاریخ کے دوران عمل ہو رہا ہے۔اس امر کی وضاحت کیلئے ہم نے بہت سی قرآنی آیات میں سے مندرجہ ذیل آیات کا انتخاب کیا ہے: الله يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ أُنثَى وَمَا تَغِيضُ الْأَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ وَكُلِّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِمِقْدَارٍ O عَلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْكَبِيرُ الْمُتَعَالِ سَوَاءٌ مِنْكُمْ مَنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفِ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ لَهُ مُعَقِبَتْ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ مِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُوْنَهُ مِنْ أَمْرِ اللهِ إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيْرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيَّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ وَإِذَا أَرَادَ اللهُ بِقَوْمٍ سُوءُ افَلَا مَرَدَّ لَهُ ۚ وَمَا لَهُمْ مِنْ دُونِهِ مِنْ وَالٍ (الرعد (9:13-12) ترجمہ: اللہ جانتا ہے جو ہر مادہ (بطور حمل ) اٹھاتی ہے اور (اسے بھی ) جو رحم کم کرتے ہیں اور جو وہ بڑھاتے ہیں۔اور ہر چیز اس کے ہاں ایک خاص اندازے کے مطابق ہوتی ہے۔وہ غیب اور حاضر کا جاننے والا ہے بہت بڑا ( اور ) بہت رفیع الشان ہے۔برابر ہے تم میں سے وہ جس نے بات چھپائی اور جس نے بات کو ظاہر کیا اور وہ جو رات کو چھپ جاتا ہے اور دن کو ( سر عام ) چلتا پھرتا ہے۔اس کے لئے اس کے آگے اور پیچھے چلنے والے محافظ ( مقرر ) ہیں جو اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔الہامی کتب کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم کے علاوہ سمتوں کی حقیقت | کسی اور کتاب میں انسانی زندگی کے حوالہ سے سمتوں کا ذکر موجود نہیں۔جبکہ قرآن کریم میں مذکور دائیں بائیں سمت کی اہمیت کا مطالعہ کر کے انسان دنگ رہ جاتا ہے۔اور یہی رنگ آنحضور ﷺ کے قول و فعل میں نظر آتا ہے جہاں ایک مسلمان کی زندگی میں دائیں اور بائیں کے مخصوص کردار کو اجاگر کیا گیا ہے۔چنانچہ ہر صاف ستھرے کام میں دائیں ہاتھ کو ترجیح دی جاتی ہے۔مثلاً کھانا کھانا، کوئی چیز دائیں طرف سے پیش کرنا اور دائیں ہاتھ۔