الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 254 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 254

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 249 اور اسی طرح کے دیگر احساسات جو غیر مبدل ہوا کرتے ہیں۔ان میں ایک ٹھہراؤ ہے، استقرار ہے جسے یقین کی پہلی منزل قرار دیا جا سکتا ہے۔یقین کی اگلی منزل سائنسی تحقیق سے متعلق ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ یہاں بھی سائنسدانوں میں کئی ایسے امور پر کامل اتفاق ہے جنہیں وہ حقیقت ثابتہ قرار دیتے ہیں۔مثلاً پانی کی کیمیائی ترکیب پر کوئی دو آراء نہیں۔یہ کوئی نہیں کہے گا کہ مروی زمانہ کے ساتھ پانی کا فارمولا H2O کی بجائے H305 ہو جائے گا۔ظاہر ہے کہ اشیاء سے متعلق انسانی ادراک میں توسیع اور تبدیلی کے امکانات کی بھی حدود ہوا کرتی ہیں۔مستحکم ہو جانے کے بعد دور افتادہ ذیلی امور میں معمولی ردو بدل کی گنجائش کے با وصف سائنسی علوم کا ڈھانچہ مستقل ہو جاتا ہے۔ایٹم کا ایٹم سے اور مالیکیول کا مالیکیول سے ملاپ اور یہ علم کہ ان کے باہمی اتصال میں کونسے کمزور اور کون سے مضبوط ہیں اور پھر اس علم کی بنا پر نئے کیمیائی مادے کیسے بنائے جا سکتے ہیں؟ یہ تمام امور اب بخوبی سمجھے جاچکے ہیں۔نت نئی معلومات کی وجہ سے مادہ کے مسلمہ خواص میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔سائنس کے مسلمہ اور بنیادی اصولوں سے ٹکرائے بغیر تحقیق کے میدان میں انسانی علم ترقی کرتا رہتا ہے۔اس سے یہ بات بھی کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ اگر کسی آسمانی صحیفہ کے بیان کا ان مسلمہ سائنسی حقائق کی روشنی میں جائزہ لیا جائے جن کی صداقت عرصہ دراز سے مسلم چلی آرہی ہو تو یقیناً ایسے بیان کی سچائی ثابت ہو جائے گی۔بعض امور محض اس لئے یقینی طور پر صحیح تسلیم نہیں کئے جاتے کہ مرورِ زمانہ نے انہیں سچا ثابت کر دیا ہے بلکہ اس لئے کہ ان کو ہر جگہ اور ہر وقت عملاً سچا ثابت کیا جا سکتا ہے۔وہ تمام طبعی قوانین جنہیں تجربہ گاہوں میں ٹیسٹ کرنے کے بعد درست ثابت کیا جا سکے، اسی زمرہ میں داخل ہیں۔جب ہم روحانی دعاوی کی صداقت کا سائنسی تحقیق کے حوالہ سے ذکر کرتے ہیں تو ہماری مراد دراصل اسی نوعیت کے مسلّمہ حقائق ہی ہوا کرتے ہیں۔اس وضاحت کی روشنی میں قرآنی وحی ہمیشہ ہی کچی ثابت ہوئی ہے۔ظاہر ہے کہ سچائی ایک مرتبہ سچی ثابت ہو جائے تو اسے کبھی جھٹلایا نہیں جاسکتا۔عالم غیب سے عالم شہود کی طرف رہنمائی کرنے میں قرآن کریم کا کردار حیرت انگیز ہے جس کا تفصیلی ذکر آئندہ ابواب میں کیا جائے گا۔