الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 255 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 255

250 ايمان بالغيب في الحال ہم اس عمومی بحث کی طرف لوٹتے ہیں جس کا تعلق انسان کی عملی وسعت اور ان مراحل سے ہے جن سے گزر کر کوئی بھی نیا خیال ایک مسلمہ حقیقت کا روپ دھار لیتا ہے۔غیب سے ابھرنے والا کوئی بھی تصور ہمیشہ عقل کے پیانہ اور تجربہ کے معیار پر جانچا جاتا ہے۔لمبے عرصہ تک اس امتحان سے گزرنے کے بعد ہی اسے مسلمہ سچائی کا درجہ دیا جا سکتا ہے۔جاسکتا انسانی تجربہ کے ہر دائرہ میں بلا استثناء یہی آفاقی اصول کارفرما ہے۔ہم یہاں ہیگل (Hegel) کی Theses اور Anti-theses جیسی فلسفیانہ اصطلاحوں کا ذکر نہیں کر رہے بلکہ روز مرہ کے عام فہم انسانی تجربات، تاثرات اور احساسات کا ذکر کر رہے ہیں۔ارتقا کی طرح یہ بھی ایک مسلسل عمل ہے۔حقائق کا یہ ذخیرہ انسانی علم کو بتدریج بڑھا تا اور مادہ کے بارہ میں اس کے فہم کو ترقی دیتا چلا جاتا ہے۔اسی طریق پر شبہات معقولیت کا رنگ اختیار کرتے ہیں، معقولیت امکان میں بدل جاتی ہے اور امکانات حقائق میں ڈھل جاتے ہیں۔اس طرح اگر انسانی علم کے حاصل کردہ نتائج وحی الہی کے مطابق ہو جائیں تو اس کی سچائی پر مزید شبہات کی گنجائش نہیں رہتی۔غیب کا تعلق ماضی، حال، مستقبل ہر زمانہ سے یکساں ہے۔قرآن کریم ان اسرار کو بیان کرنے میں خود کو کسی ایک زمانہ تک محدود نہیں رکھتا۔وہ کمال صراحت کے ساتھ تمام زمانوں پر اس طرح حاوی ہے کہ ماضی، حال اور مستقبل میں کوئی تمیز باقی نہیں رہتی۔کائنات کی پیدائش جیسے قدیم ترین واقعات انسانی تصور میں یوں ابھرتے ہیں گویا وہ حال کا قصہ ہوں۔اسی طرح مستقبل بعید میں کائنات کا صفحہ ہستی سے کسی نئے بلیک ہول (Black Hole) میں گم ہو جانا بھی قرآن کریم میں اس انداز سے مذکور ہے گویا نزول قرآن کے وقت یہ واقعہ ہورہا ہو۔اسی طرح نہایت صراحت کے ساتھ زندگی کی ابتداء اور انجام کا ذکر بھی ملتا ہے۔قرآن کریم انسانی ترقی کی منزل به منزل تاریخ کو جس وضاحت سے بیان کرتا ہے اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ قرآن کریم اس بصیر ہستی کی طرف سے نازل ہوا ہے جس کی نظر بیک وقت ازل اور ابد کی دونوں انتہاؤں پر ہے۔اور یہی ہماری اس کتاب کا مقصد ہے۔اس مضمون پر مزید غور کرنے سے قبل ہم قاری کی توجہ اس امر کی طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں کہ وحی الہی کی صداقت کا مدار محض سیکولر اور موضوعی شہادت پر نہیں بلکہ قرآن کریم کی تصدیق تو