الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 244
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 239 بذریعہ الہام ہی کیوں نہ ہو صراحت ، قطعیت اور کمال کے اعتبار سے بہر حال اس علم کا مقابلہ نہیں کر سکتا جو انبیاء کو دیا جاتا ہے۔یہ علم لدنی جو دراصل انبیاء کو عطا ہوتا ہے عموماً عالم روحانی اور عالم عقبی سے متعلق ہوتا ہے۔ہر چند کہ وحی الہی دنیوی علوم کے متعدد شعبوں کا بھی احاطہ کرتی ہے لیکن محض اس غرض سے کہ اس کے ذریعہ خدائے علیم کے وجود اور انبیاء کی صداقت پر مومنوں کا ایمان مضبوط ہو۔دنیوی علوم کی تحقیق میں انسان کو بالعموم یہ آزادی دی گئی ہے کہ وہ وحی کی مدد کے بغیر ہی غیب کا علم حاصل کر لے۔تا ہم قرآن کریم اس تصور کو دفرماتا ہے کہ انسان خدا کے اذن اور تائید کے بغیر اس کے علم کا کچھ بھی احاطہ کر سکے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْ مِنْ عِلْمِةٍ إِلَّا بِمَا شَاء ( البقرة 2: 256) ترجمہ: اور وہ اس کے علم کا کچھ بھی احاطہ نہیں کر سکتے مگر جتنا وہ چاہے۔پیغام واضح ہے کہ انسان کی غیب" تک رسائی اسی حد تک ممکن ہے جس حد تک خدا اجازت دے۔اس سے یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ وہ علمی تحقیق اور تفتیش جسے عرف عام میں سیکولر یا دنیوی قرار دیا جاتا ہے وہ کلیہ سیکولر نہیں ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ ہر نئے دور میں علم کا نیا باب البی منصوبہ اور ارادہ کے ماتحت ہی کھلتا ہے۔اس کی مزید تائید مندرجہ ذیل آیت سے ہوتی ہے: وَإِنْ مَن شَيْ إِلَّا عِندَنَا خَزَايَنَّهُ وَمَا نُنَزِلَة إِلا يَقَدَرٍ تَعْلُوم ( الحجر 22:15) ترجمہ: اور کوئی چیز نہیں مگر ہمارے پاس اُس کے خزانے ہیں اور ہم اُسے نازل نہیں کرتے مگر ایک معلوم اندازے کے مطابق۔اس آیت کے ذریعہ جو نہایت حسین پیغام ارشاد ہوا ہے وہ یہ ہے کہ غیب کی کوئی حد و نہایت نہیں۔بایں ہمہ انسان کو ہمیشہ ہی اس تک رسائی کی اجازت بھی دی جاتی ہے لیکن یہ رسائی اس معین حد تک عطا ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے علم میں زمانہ کی ضرورتوں اور تقاضوں کے مطابق ہو۔یوں غیب کی قرآنی اصطلاح کسی صورت میں بھی اندھے اعتقاد کی حوصلہ افزائی نہیں کرتی بلکہ