الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 188 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 188

184 سيكولر نقطه هائے نظر کا تجزیه ارفع واعلیٰ ہوتا ہے اتنا ہی عاجزانہ بھی لیکن اس کے اوائل میں جب مذہب اپنی اصل اور بے داغ حالت میں ہوتا ہے تو معاشرہ شدید مخالفت کے ساتھ اسے رد کر دیتا ہے۔انبیاء علیہم السلام مذہبی تعلیمات کا بہترین نمونہ ہوتے ہیں لیکن انہی کو لوگ نہ صرف مستر د کر دیتے ہیں بلکہ ان سے استہزاء کرتے اور انہیں ظالمانہ مخالفت کا نشانہ بناتے ہیں۔یہی حال ابتدائی ایمان لانے والوں کا ہوتا ہے جن کی دیانت، مقصد سے لگن اور حق کے لئے رضا کارانہ قربانیوں کی مثال بعد کے دور میں ملنی محال ہوا کرتی ہے۔یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ ان جیسے نیک لوگ اپنی زندگی میں تو معاشرہ کیلئے قابل قبول نہیں ہوتے لیکن اس سرائے فانی سے کوچ کرنے کے بعد بعض دفعہ ان کی تکریم ان کے اصل مرتبہ سے بھی بڑھ کر کی جاتی ہے یہاں تک کہ انہیں خدائی کے مرتبہ تک پہنچا دیا جاتا ہے اور ان کی قبروں کی پوجا شروع ہو جاتی ہے۔معاشرہ کا یہ عجیب اور متضاد رویہ ان لوگوں میں بتدریج بڑھتا چلا جاتا ہے جو کوئی قربانی دیئے بغیر اس عقیدہ کو وراثتاً اپنا لیا کرتے ہیں۔یہ لوگ اعلیٰ مذہبی اقدار کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیتے ہیں اور انہیں گھن کی طرح چاٹ جاتے ہیں۔خدا تعالیٰ کی توحید ہمیشہ دو طریق پر کام کرتی ہے۔اوّل یہ کہ توحید کے علمبر دار اللہ تعالیٰ سے ایک اٹوٹ رشتہ میں منسلک ہونے کے ساتھ ساتھ آپس میں بھی اسی طرح جڑے ہوتے ہیں۔دوسرے یہ کہ خالق اور مخلوق کے درمیان بھی یکجہتی کا رشتہ پایا جاتا ہے۔مستند تاریخ کی رو سے کبھی کسی نبی نے اپنے سے پہلے آنے والے نبیوں پر نہ تو کوئی الزام لگایا اور نہ ہی ان کی تردید کی وحدانیت کا یہ رویہ مستقبل پر بھی محیط ہے۔جھوٹے نبیوں کے بارہ میں، جو اپنی فتنہ پردازیوں سے شناخت کئے جا سکتے ہیں، بلاشبہ انتباہ بھی کیا جاتا ہے لیکن سچے مرسلین کے ظہور کا ہمیشہ محبت اور احترام سے ذکر کیا جاتا ہے۔اس کا اطلاق تو حید کے علمبرداروں پر یکساں ہوتا ہے۔وہ توحید کی لڑی میں پروئے جاتے ہیں۔لیکن بدعنوان مذہبی پیشوا اس خوبی سے عاری ہوتے ہیں۔وہ توحید کی آڑ میں تفرقہ کا پرچار کرتے ہیں۔توحید کی محبت خدا کے نبیوں کو باہم اس طرح متحد کر دیتی ہے کہ ایک کی ناراضگی سب کی ناراضگی متصور ہوتی ہے۔توحید ایک طرف تو اللہ اور اس کے رسولوں کے مابین یگانگت کی علامت ہوتی ہے اور دوسری طرف ان برگزیدہ بندوں میں باہمی اتحاد کی۔