الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 178
174 سيكولر نقطه هائے نظر کا تجزیه ایسے گنجلک نظام کو جنم دیا جس میں دیوتاؤں کے مختلف مقام متعین کئے گئے اور ہر دیوتا کیلئے کائنات میں ایک الگ دائرہ کار تجویز ہوا۔دیوی دیوتاؤں کی یہی درجہ بندی تھی اور ان کے باہمی مراتب میں فرق تھا جو بالآخر ایک اعلیٰ و برتر خدا کی تخلیق پر منتج ہوا۔الغرض ماہرین عمرانیات اس انداز فکر کی بنا پر اندازہ لگاتے ہیں کہ انسانی دماغ نے خدا کی تخلیق اس طرح پر کی ہوگی۔بالفاظ دیگر اگر خدا سازی کا کام ان ماہرین کے سپرد کیا جاتا اور اس کام کیلئے درکار طویل وقت بھی دے دیا جاتا تو غالبا وہ اسی طریق پر خدا تعالی کو تخلیق کرتے۔ان کے اس کلیہ کی اساس اس مفروضہ پر ہے کہ خدا کا کوئی وجود نہیں۔مگر چونکہ اس مفروضہ کی بنیاد کسی حقیقی تحقیق پر نہیں ہے بلکہ ان کی سوچ محض ایک دہر یہ ذہن کی عکاسی کرتی ہے اس لئے وہ اپنے پہلے سے طے شدہ نتیجہ کے بارہ میں بزعم خود عقل و دانش پرمینی غیر جانبدارانہ تحقیق کا ڈھنڈورا پیٹتے رہتے ہیں۔نہ تو انہیں اپنی سوچ کی خامیاں اور تضادات نظر آتے ہیں اور نہ ہی وہ اس فرضی تاریخ کے واقعات میں کوئی باہمی ربط پیدا کر سکتے ہیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ فکر انسانی کے ارتقا کی تاریخ کا سرے سے کوئی ریکارڈ ہی نہیں ملتا۔وہ نہ صرف مبہم ہے بلکہ در حقیقت اس کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔زیادہ سے زیادہ ہم اس کو تاریخ کا نام دے سکتے ہیں جو تھوڑا بہت بطور ثبوت کے ہمیں پرانے آثار سے ملتا ہے اور جن سے اس زمانہ کے طرز زندگی پر روشنی پڑتی ہے۔یہ تاریخ کم و بیش دولاکھ سال پرانی ہے۔جہاں تک مذہب کی تاریخ کا تعلق ہے تو اس پر بمشکل چند ہزار سال ہی گزرے ہیں۔پس مفروضے ہی ہیں جن پر انہیں اپنے نظریات کی بنیادرکھنا پڑتی ہے۔زمانہ قدیم کے لوگوں کی سوچ کے بارہ میں ان کے نظریات محض ایک افسانوی اڑان کی حیثیت رکھتے ہیں جس کا رخ دہریت کی جانب پہلے سے طے شدہ ہے۔انسانی فطرت جو کہ انسان کے انداز فکر کو پرکھنے کا واحد ذریعہ ہے، ان کے اخذ کردہ نتائج کی تصدیق نہیں کرتی۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی ہم اُسی کی عبادت کرتے ہیں جس سے خوف کھاتے ہیں یا حرص ہمیں اشیاء کی عبادت کرنے پر ہمیشہ مجبور کرتی ہے؟ یہ دونوں عوامل کسی ادنی درجہ کے مذہب کی بنیاد بھی فراہم نہیں کر سکتے۔انسان خوفناک اشیاء سے تو دور بھاگتا ہے البتہ یہ ممکن ہے کہ اذیت کا نشانہ بننے والے بے بس مظلوم جو بھاگنے کی سکت نہیں رکھتے وہ ظالموں سے رحم کی بھیک مانگیں