الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 158
156 زرتشت ازم آنکھ مچولی سے بخوبی واضح ہو جاتی ہے۔سایہ کوئی مادی چیز نہیں، اصل اہمیت روشنی کی ہے۔اور بظاہر روشنی سایہ کو پیدا کرتی ہے لیکن در اصل روشنی سایہ پیدا نہیں کرتی بلکہ سایہ تو روشنی کی عدم موجودگی کا نام ہے۔جب روشنی کی راہ میں رکاوٹ آتی ہے تو سایہ وجود میں آتا ہے۔لہذا بعد میں آنے والے زرتشتیوں کو اہرمن یا شیطان گھڑ لینے کی چنداں ضرورت نہیں تھی۔دراصل صرف نیکی ہی ہے جس کی ضرورت ہے اور گناہ تو نیکی کو ترک کرنے کے نتیجہ میں خود بخود پیدا ہو جاتا ہے۔الہذا اگر اہر من ظلمت کا دیوتا ہے بھی تو وہ نور اور خیر کی عدم موجودگی کا ایک نتیجہ ہے نہ کہ ان کا خالق۔مذکورہ بالا بحث کی روشنی میں ہم بآسانی یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ حضرت زرتشت خدائے واحد یعنی نیکی کے خدا پر ایمان رکھتے تھے اور اسی کی طرف سے آپ کو وحی سے نوازا گیا تھا۔ان کا علم اور راستبازی کسی منطق اور وجدان کا نتیجہ نہ تھی بلکہ وحی الہی کی مرہونِ منت تھی۔آیئے ایک بار پھر دنیا میں دکھ اور برائی کی موجودگی سے متعلق زرتشتیوں کے پیش کردہ فلسفیانہ حل کا بغور جائزہ لیتے ہیں کہ اگر بدی کی منصوبہ بندی کرنے والے دو الگ الگ دیوتا ہوتے تو ان کی باہمی کشمکش کے نتیجہ میں فتح کس کی ہوتی اور کیونکر؟ اگر چہ زرتشتی مذہب کے پیروکار بظاہر یہی امید دلاتے ہیں کہ فتح بالآخر نیکی کی ہوگی لیکن ان کا فلسفہ اس بات کی قطعاً وضاحت نہیں کر پاتا کہ نیکی کی قوت ہی کیوں لازماً جیتے گی۔اگر باوجود ایک دیوتا کے دوسرے سے کمزور ہونے کے، دونوں آزاد ہیں تو طاقتور کمزور کو کبھی کا نیست و نابود کر چکا ہوتا۔چنانچہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نیکی کو بدی کی قوتوں پر کامل غلبہ حاصل کر لینا چاہئے تھا۔چونکہ ایسا نہیں ہوا اس لئے دونوں دیوتا اپنی مخصوص قوتوں میں مساویانہ توازن قائم رکھتے ہوئے گویا ہنڈولے کے کبھی نہ ختم ہونے والے کھیل میں مشغول ہیں۔اندریں صورت یہ کیسے ممکن ہے کہ نیکی بدی پر کامل غلبہ حاصل کر لے؟ ایک اور اہم مسئلہ دنیا میں دکھ کی موجودگی کا ہے جسے دوبارہ زیر بحث لانے کی ضرورت ہے۔یہ امر ثابت کیا جا چکا ہے کہ زرتشتی نظریۂ عمویت اپنی سطحی سادگی کے باوجود اصل مسئلہ کے حل میں ناکام رہا ہے۔نظریۂ شنویت کے گہرے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک شفیق و مہربان خالق کی تخلیقی منصوبہ بندی کی موجودگی میں یہ نظریہ دُکھ اور درد کے معمہ کوحل کرنے کیلئے قطعاً نا کافی ہے۔اس مسئلہ پر ہم اگلے باب میں الگ بحث اٹھا ئیں گے۔