الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 105 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 105

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 105 کے طور پر پیدا ہونے والا اگلے جنم میں کیڑا بھی بن سکتا ہے۔اگر چہ یہ بڑی نا خوشگوار بات ہوگی لیکن اس کا سہرا اپنے ہی گناہوں کے سر ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ آواگون کا یہ سلسلہ شروع کہاں سے ہوتا ہے؟ یہ ایک مستقلاً لا نخل معمہ ہے کہ اگر ہرنئی جون کسی سابقہ جسم کی متقاضی ہے تو پھر یہ سلسلہ شروع کیسے ہوا؟ یقیناً علت و معلول کے اس سلسلہ کو عہد ماضی میں اور پیچھے دھکیلنے سے تو کام نہیں چلے گا۔اس سے زندگی کی تمام شکلوں اور ان سے متعلق کرموں پر ابدیت لازم آتی ہے۔لیکن یہ ایسا خیال ہے کہ جس سے بہت پر جوش ہندو پنڈت بھی متفق نہیں ہو سکتے کیونکہ جانوروں کے ابدی ہونے سے تخلیقی عمل فضول اور بے معنی ٹھہرتا ہے۔کرموں اور ان کی پاداش کو سمجھنے کا ایک ہی راستہ باقی رہ جاتا ہے اور وہ یہ کہ انہیں ایک مدور زنجیر کے طور پر سمجھا جائے۔لیکن یہ بھی کسی طور سے ممکن نہیں کیونکہ کرموں اور پاداش کا ایسا بے انت دائرہ کسی ابتداء اور انتہاء کے بغیر ممکن نہیں۔علت و معلول کا ایسا ابدی چکر منطقی طور پر صرف اس صورت میں قابل قبول ہو سکتا ہے جب اس سلسلہ کی ہر کڑی ایک جیسی ہو۔جہاں ان کڑیوں کی بناوٹ میں فرق نظر آئے گا وہیں آغاز اور انجام بھی دکھائی دینے لگے گا۔مثلاً جو کڑیاں زوال کا نزولی اور ارتقا کا صعودی رجحان رکھتی ہوں انہیں کسی ابدی چکر میں نہیں جوڑا جا سکتا۔آیئے ویدوں کے بیان کردہ موقف کے پس منظر میں ایک بار پھر اس امر کا جائزہ لیں کہ زندگی اور انواع و اقسام کی حیات کی ابتدا کیسے ہوئی۔اگر یہ ایک مسلسل چکر ہے جیسا کہ ہندوؤں کے مذہبی دانشوروں کا اصرار ہے کہ جب تنزل اپنی انتہاء کو پہنچتا ہے تو ضروری ہے کہ وہ اپنے نقطہ آغاز سے بالکل مختلف ہو۔جب روئے زمین سے نوع انسانی کی صف لپیٹ دی جائے تو صرف گناہ کے عادی جانوروں کا مسلسل نیچے گرتا ہوا گراف ہی باقی رہ جاتا ہے۔یا دائرہ مکمل کرنے کے لئے ان جانوروں کو زمین پر زندگی کی ابتداء سے منسلک کرنے کا کام۔جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں ویدوں کی تعلیمات کے مطابق زندگی کی ابتداء ہمیشہ تبت یعنی دنیا کی چھت پر براجمان چار رشیوں سے ہوا کرتی ہے۔کیسے ممکن ہے کہ محض چکر کو مکمل کرنے کی خاطر کیڑے مکوڑے، حشرات الارض، ہزار پایوں، چوہوں اور نیولوں کو جو گنہ گار انسانوں کی باقیات ہیں زندگی کی ابتداء کے ارفع ترین مقام پر فائز چار رشیوں کی مقدس ہستیوں سے جوڑ دیا جائے۔آواگون کے