الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 106 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 106

106 هندو مت دائرہ کو ، جس کا ہم نے ابھی ذکر کیا ہے، نہ تو اس کے آغاز سے منسلک کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے ابدی کہا جاسکتا ہے کیونکہ ابدیت ایک اٹوٹ تسلسل کو چاہتی ہے۔اگر زنجیر کے آخری سرے کو حیات کے آغاز سے منسلک کر دیا جائے تو اس کے ایسے گھناؤنے نتائج نکلیں گے جن کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔مثلاً اگر کوئی اثر دھا اپنی دم کو منہ میں دبائے بیٹھا ہو تو کوئی ہوشمند انسان اسے ایسا ابدی دائرہ نہیں کہہ سکتا جس کی نہ کوئی ابتداء ہے، نہ کوئی انتہاء۔دم، دانتوں میں اچھی طرح دبالینے کے باوجود، دم ہی کہلائے گی۔اس دائرہ کا ایک سرا ہو گا اور ایک دم ہو گی۔یعنی اس کی ابتداء بھی ہے اور انتہا بھی۔چاروں رشیوں کیلئے دل میں معمولی سا احترام رکھنے والا شخص بھی یہ پسند نہیں کرے گا کہ وہ ایسی دم سے پیدا ہو جو ادنی درجہ کے جانوروں سے معرض وجود میں آئی ہو۔ہم پورے وثوق سے کہتے ہیں کہ کوئی بھی ہند وخواہ وہ تعلیم یافتہ ہو یا ان پڑھ، ابدی دائرہ کے ایسے جاہلانہ خیال سے اتفاق نہیں کر سکتا۔ایسے خیال کو فطرت کلی مسترد کرتی ہے اور نہ ہی اس کی تائید میں کوئی ادنی اسی شہادت سامنے آئی ہے۔کرموں کے مسئلہ کا ایک اور زاویہ سے بھی جائزہ لینا چاہئے۔کرموں کی اصطلاح ایسے تمام افعال پر اطلاق پاتی ہے جن کا فاعل ذمہ دار اور جوابدہ ہے۔یعنی اگر عمل نیک ہے تو جزاء اور بد ہے تو سزا کا مستحق ٹھہرتا ہے۔اس سے لازم آتا ہے کہ نیک اور بد اعمال کے بارہ میں الہی مشیت اور پسند نا پسند کا واضح اظہار ہو ورنہ کسی کو کیسے پتہ چلے گا کہ خدا تعالیٰ کو کونسا عمل پسند ہے اور کون سا نا پسند۔اس خاص حکمت کی بنا پر بنی نوع انسان کی ابتداء عظیم رشیوں سے کی گئی۔اگر ان پروید نازل نہ ہوتے تو انسان کو کبھی یہ علم نہ ہوتا کہ ان کیلئے کیا اچھا ہے اور کیا برا اور نہ ہی وہ اپنے کرموں کی پاداش میں جوابدہ ہوتے۔پس کرموں کے اس اصول کا اطلاق صرف انسان پر ہی ہو سکتا تھا جسے ابتدائی چار رشیوں کے ذریعہ اوامر ونواہی کا ایک واضح لائحہ عمل دیا جا چکا ہو۔اگر اس اصول کا اطلاق انسانوں کی بجائے جانوروں پر کیا جائے تو مسئلہ خاصا الجھ جاتا ہے۔کیا حیات کی ہر نوع کے پاس الہی قانون پر مبنی واضح صحیفے موجود ہیں؟ اگر نہیں تو انہیں زندگی کیسے بسر کرنی چاہئے اور ان کا حساب کیونکر ہوگا؟ کیا ان کے جبلی رویے ہی خدائی احکام کے