الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 631
600 حضرت عیسی علیه السلام اور ختم نبوت اس خود ساختہ اور بے بنیاد خیال کو قرآن کریم کی ایک بنیادی آیت سے منسلک کر دینا ایک خوفناک گستاخی ہے۔جن وجوہات کی بنا پر قرون وسطی کے مذہبی عمائدین نے یہ مسائل کھڑے کئے اور فریب دہی کے ایسے طریق اختیار کئے جن سے بالکل غیر متعلقہ مسائل کو باہم خلط ملط کر دیا گیا، اس وقت اس بحث کا بنیادی موضوع ہیں۔اس پس منظر میں علماء کی ان بے سود کوششوں کے ذکر الله الله کے بعد ہمیں امید ہے کہ ان امور کو ذہن میں رکھتے ہوئے قاری اس مسئلہ کو خوب سمجھ سکے گا۔اس حقیقت کے باوجود کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے زندہ آسمان پر جانے یا اتر آنے کا قرآن کریم کی آیت خاتم النبیین سے دور کا بھی واسطہ نہیں ، علماء یہی رٹ لگا رہے ہیں کہ ان دونوں میں ایک یقینی تعلق موجود ہے۔ان کا اصرار ہے کہ چونکہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی مبعوث نہیں ہو سکتا اس لئے آپ ﷺ کے بعد عیسی بن مریم نبی اللہ آسمان سے زمین پر واپس لائے جائیں گے۔گو قدامت پسند مسلمانوں کو یہ من گھڑت نظریہ پسند ہے کہ نئی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے آنحضرت ﷺ کے ایک امتی کی بجائے کسی پرانے نبی کو مبعوث کیا جا رہا ہے لیکن ان کے اس جوش و خروش میں عوام ہرگز شریک نہیں۔کوئی معمولی سی عقل رکھنے والا انسان بھی اس قسم کے دجل کو خدائے قادر و حکیم کی طرف ہرگز منسوب نہیں کر سکتا۔یہ حرکت صرف ملاں ہی کر سکتے ہیں اور بعینہ یہی کچھ وہ کر بھی رہے ہیں۔ان کے خیال میں آنحضرت ﷺ کے آخری نبی ہونے کے عقیدہ کو حضرت عیسی علیہ السلام کی اس دنیا میں واپسی کے نظریہ سے جوڑ کر انہوں نے بزعم خود خدا تعالیٰ کی ارفع ذات کو ان عواقب سے بچالیا ہے جو ختم نبوت کے قبل از وقت اعلان سے پیدا ہوئے تھے۔انہیں یہ بھی یقین ہے کہ اس طرح انہوں نے خدائے عزوجل کو تناقض کے مخمصہ سے بچالیا ہے۔ایسی سوچ ایک نادان ملاں ہی کی ہو سکتی ہے اور اسی پر چتی ہے۔لیکن ہمارا عقیدہ ہے کہ خدا کی ذات کے متعلق یہ کبھی تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ نعوذ باللہ وہ کسی کو اس علم کے باوجود کہ یہ وعدہ پورا نہیں ہو گا، آخری نبی قرار دے دے۔پھر اپنے اس وعدہ کو اس طرح پورا کرنے کی کوشش کرے کہ ایک پرانے نبی کو اس آخری نبی کی وفات کے بعد دنیا میں بھیج دے۔یہ تو محض تمسخر ہوا۔یوں ملاں خدا تعالی کو اپنی خود ساختہ کسوٹی پر پرکھتا ہے اور تضاد کا شرمناک فعل خدائے قدوس کی طرف منسوب کر دیتا ہے اور پھر خود ہی اس کا دفاع بھی کرتا ہے۔ملاں کی یہ