الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 37 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 37

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 37 Undivided Trinity اس کے رستہ میں حائل ہو گیا جس سے دوٹوک اور صاف انکار کے باعث اسے نہ صرف فیلوشپ سے محروم ہونا پڑا بلکہ اس کا 60 پونڈ سالانہ کا معقول وظیفہ بھی بند کر دیا گیا جو اس زمانہ کے لحاظ سے کوئی معمولی رقم نہیں تھی۔چنانچہ نیوٹن پر کفر والحاد کا الزام لگا کر اسے یونیورسٹی کی فیلوشپ اور عہدہ سے فارغ کر دیا گیا۔اس پر فتویٰ صرف اس لئے لگایا گیا کہ اس کے نزدیک حضرت عیسی علیہ السلام کی پرستش بت پرستی میں داخل تھی جو کہ ایک گناہ کبیرہ ہے۔نیوٹن کے متعلق آر۔ایس۔ویسٹ فال (R۔S۔Westfall) لکھتا ہے: وہ حضرت عیسی کو بندہ اور خدا کے درمیان ایک الہی وسیلہ سمجھتا تھا جو خود اپنے پیدا کرنے والے آسمانی باپ کے ماتحت تھا۔اس کا یہ یقین پختہ سے پختہ تر ہوتا چلا گیا کہ چوتھی اور پانچویں صدی عیسوی میں وسیع پیمانے پر دیئے جانے والے فریب کی وجہ سے ابتدائی کلیسا کے اصل عقائد میں بگاڑ پیدا ہو گیا تھا۔اس فریب کا مرکزی نقطہ تثلیث کی تائید میں اناجیل میں کی جانے والی تحریف تھی۔یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ نیوٹن نے یہ عقیدہ کب اختیار کیا۔اس کا معین طور پر جواب دینا تو ممکن نہیں لیکن اس کی بعض تحریریں اس امر کی تصدیق کرتی ہیں کہ شکوک و شبہات تو شروع ہی سے اس کے دماغ میں پیدا ہو چکے تھے جن کا وہ ازالہ تو کیا کرتا الٹا وہ خود ہی ان کے زیر اثر آ گیا۔2 پس توحید باری تعالیٰ پر نیوٹن کے ایمان اور تثلیث سے انکار کا بنیادی سبب یہ تھا کہ اس نے عیسائی عقائد کی کسی جانبداری اور تعصب کے بغیر تحقیق کی تھی۔اس کی ذاتی بائیل کے حاشیہ پر جگہ جگہ اس کے ہاتھ کے لکھے ہوئے متعدد نوٹ موجود ہیں۔مثلاً : لہذا باپ اپنے بیٹے کا خدا ہے بشرطیکہ بیٹے کو خدا متصور کیا جائے۔3 اس سے ویسٹ فال یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ: نیوٹن کے دینی مطالعہ کا پہلا نتیجہ تو یہ نکلا کہ اس کے ذہن میں تثلیث اور مسیح کے مقام کے بارہ میں شکوک و شبہات پیدا ہو گئے۔3 جب یورپ کی نشاۃ ثانیہ کے دوران ایمان اور عقلیت کے قدیم مسئلہ پر از سرنو دلچسپی پیدا