الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 38 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 38

38 فلسفة یورپ ہوئی تو اس وقت رینے ڈیکارٹ Rene Descartes (1650-159) کو ایمان کا پرچم بلند رکھنے کی توفیق ملی۔اس کے نزدیک اصل بحث عیسائیت اور عقل کے باہمی تقابل کی نہیں بلکہ فلسفیانہ موشگافیوں کے دور میں جبکہ انسانی ذہن انتشار کا شکار تھا، اصل سوال ایمان باللہ کا تھا۔رینے ڈیکارٹ (Rene Descartes) غیر معمولی طور پر روشن دماغ منطقی تھا جو نہ صرف ہستی باری تعالیٰ پر یقین رکھتا تھا بلکہ یہی وہ پہلا فلسفی ہے جس نے بڑی جرات کے ساتھ عقل کو خدا کی طرف رہنمائی کا وسیلہ قرار دیا۔یہ اس کی خوش قسمتی تھی کہ اس نے تثلیث کے متعلق عقلی مباحث میں الجھنے سے انکار کر دیا۔اس نے صرف یہ ثابت کیا کہ ایک ارفع و اعلیٰ ہستی موجود ہے۔غالباً ڈیکارٹ کو اپنے ہم عصر مفکرین میں اس کے بلند اور قابل عزت مقام سے اس لئے محروم کر دیا گیا کہ اس نے مروجہ عیسائی عقیدہ سے انحراف کیا تھا۔جے۔گٹ مین (J۔Gutman) نے اس صورت حال کی وضاحت اپنی کتاب Philosophy میں کی ہے جس میں وہ ڈیکارٹ کو (Revelational Theist) یعنی ایسے مفکر کے طور پر پیش نہیں کرتا جو ہستی کباری تعالیٰ اور الہام الہی کا قائل تھا جو کہ واقعتہ درست بات تھی۔لیکن گٹ مین کے نزدیک وہ ایسا تھا نہیں، ایسا سمجھا جاتا تھا۔ڈیکارٹ کے ساتھ یہ سلوک محض اس لئے روا رکھا گیا کہ اس نے عقلی دلائل کی بنا پر 4 عیسائیت کے مخصوص عقائد کو قابل اعتنا نہ سمجھا۔حق بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے خلاف بغاوت سے عیسائی پادریوں کے جذبات اتنے مجروح نہیں ہوئے جتنے عیسائیت کی اعلانیہ مذمت سے۔یہ ایک بہت بڑا المیہ ہے کہ ڈیکارٹ جیسے عظیم فلسفی اور ریاضی دان کو وہ خراج تحسین پیش نہیں کیا گیا جس کا وہ مستحق تھا۔یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ وہ صرف ایک نظریاتی فلاسفر ہی نہیں تھا بلکہ جیومیٹری کا بھی ایک بہت بڑا ماہر تھا جس نے فیثا غورث (580 تا 500 ق م) کے جیومیٹری کے کام کو نسبتا اس بلند مقام تک پہنچا دیا جس کی نظیر پہلے کہیں نہیں ملتی۔علم جیومیٹری کے سلسلہ میں اس نے جو ٹھوس کام سرانجام دیا وہ بہت سے ایسے جدید مسائل پر مشتمل ہے جن کی بنا پر ڈیکارٹ کو اولیت کا درجہ حاصل رہے گا اور اس کی عظمت کو ہمیشہ خراج تحسین پیش کیا جاتا رہے گا۔اس کی عظمت کی ایک اور دلیل یہ ہے کہ یہ وہ پہلا شخص ہے جس نے ریاضی کے