الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 36 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 36

36 فلسفة یورپ ہے۔نہیں ہو سکتے۔یقین کی تشکیل کیلئے کوئی نہ کوئی منطقی بنیاد درکار ہوتی ہے۔خواہ آپ سمجھ سکیں یا نہ سمجھ سکیں، ہر عقیدہ کے پس منظر میں بالا رادہ یا بلا ارادہ کوئی نہ کوئی عقلی بنیاد ضرور موجود ہوتی المختصر سکائٹس (Scotus) کے نزدیک حقیقی ایمان اور اساطیر کو یکساں قرار نہیں دیا جا سکتا۔حقیقی ایمان کے متعلق یہ سمجھ لینا چاہئے کہ وہ عقل کی ٹھوس بنیادوں پر قائم ہے۔اس کے نزدیک جب ایمان انسانی ذہن میں راسخ ہوا تو لازماً کسی برہان و منطق کی بنا پر ہی ایسا ممکن ہوا۔لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ تعلق بظاہر نظروں سے غائب ہو گیا اور پھر یوں لگا جیسے ایمان کسی عقلی سہارے کے بغیر ہوا میں معلق ہو کر رہ گیا ہو۔لیکن واقعہ یہ ہے کہ جس استقلال اور ثبات کے ساتھ ایمان نے مرور زمانہ کا مقابلہ کیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عقل و دانش کے بغیر اسے یہ بلندیاں کبھی نصیب نہ ہو سکتیں۔حاصل کلام یہ کہ سکائس کی رائے میں انسان کیلئے ضروری ہے کہ وہ گا ہے بگا ہے اپنے ایمان کی صحت کا عقل کی روشنی میں جائزہ لیتا رہے۔اگر دونوں میں تضاد نظر آئے تو لازما عقل کی پیروی کی جائے گی۔اس طرح عقل کو ایمان پر ہمیشہ برتری حاصل رہے گی۔تثلیث کے بارہ میں نیوٹن (1642ء - 1727ء ) کا طرز فکر اس کی ایک بہترین مثال ہے۔جب تک اس نے ورثہ میں ملنے والے مذہبی عقائد کا شعوری طور پر سائنسی جائزہ نہیں لیا تھا وہ اس عقیدہ پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہا۔لیکن بعد میں جب اس نے اپنے ایمان کو عقل و استدلال کی کسوٹی پر پرکھا تو عقیدہ تثلیث کو رڈ کرنے کے سوا اس کے لئے کوئی چارہ نہ رہا کیونکہ اس کے نزدیک تثلیث کا عقیدہ عقل کی کسوٹی پر پورا نہیں اترتا۔یوں وہ ہمیشہ نیوٹن کیلئے چرچ کے تعصبات کا سب سے بڑا نشانہ بن گیا۔حالانکہ یہ نیوٹن ہی تھا جس کی ذہانت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ، اسے کیمبرج یونیورسٹی کے College of the Holy and Undivided Trinity کا فیلو منتخب کیا گیا۔وہ کئی سال تک اس عہدہ پر فائز رہا۔تاہم 1675ء میں اسے مطالبہ کیا گیا کہ یا تو وہ اپنے عہدہ سے دستبردار ہو جائے یا پھر اپنے نظریات کو ترک کر کے اپنے راسخ العقیدہ عیسائی ہونے کا حلفیہ اعلان کرے۔لیکن College of the Holy and