الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 35 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 35

فلسفہ یورپ علم و آگہی کا سورج بالآخر اندلس پر غروب ہوا اور اس کا روشن چہرہ فرانس کے افق سے نمودار ہوا تا کہ باقی یورپ کو بھی اپنی روشنی سے منور کر سکے۔نتیجۂ جنوب سے شمال اور مشرق سے مغرب تک تمام یورپ علم کی روشنی سے جگمگا اٹھا۔علوم کا ایسا شاندار دور شروع ہوا جس کا آئندہ کئی صدیوں تک یورپ پر غلبہ مقد رتھا۔یوں تحریک احیائے علوم یا نشاۃ ثانیہ کا آغاز ہوا۔لیکن آج یورپ میں بہت کم لوگوں کو اس بات کا احساس ہے کہ وہ علم و حکمت کی اس صبح کیلئے جسے نشاۃ ثانیہ کہا جاتا ہے، مسلم ہسپانیہ کے کتنے مرہون منت ہیں۔اندلس کے بہت سے ممتاز فلسفی، ریاضی دان، سائنسدان، ہیئت دان اور ماہرین طب ایسے ہیں جن کا نام و نشان تک یورپ کے حافظہ سے مٹ چکا ہے اور جن کی یادیں گمنامی کے ویران قبرستان میں دفن ہیں۔نشأة ثانیہ کی صبح طلوع ہوتے ہی ظلمت کا فور ہوگئی اور عقل و استدلال نے اندھے اعتقادات کو ان مقامات سے بھی نکال باہر کرنا شروع کر دیا جو صدیوں سے اس کی مکمل گرفت میں تھے۔ان حالات میں مادی فلسفوں اور ایمان و اعتقاد کے مابین توازن قائم رکھنا کوئی آسان کام نہ تھا۔پادریوں کے زیر تسلط اس دور کے معاشرہ کیلئے عقلی اور استدلالی فلسفوں کے نئے حملوں سے اپنے عقائد کا دفاع کوئی معمولی بات نہ تھی۔مغرب کو عیسائیت کا جو تصور ورثہ میں ملا وہ زیادہ تر پولوی اثر کے تحت بگڑ کر اساطیری عقائد میں بدل گیا۔اس میں اب وہ آسمانی نور باقی نہیں رہا تھا جس نے حضرت عیسی علیہ السلام کے سینہ کو منور کیا تھا۔- تحریک احیائے علوم سے پہلے بھی بعض یورپی دانشوروں نے عقل اور ایمان کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کی تھی۔نویں صدی عیسوی میں ای۔جے۔سکاٹس (E۔J۔Scotus) نے عقل اور ایمان میں ایک گونہ مصالحت کی عمدہ مثال قائم کی۔اس کا خیال تھا کہ مجرد عقل سے صداقت تک رسائی ممکن نہیں بلکہ عقل اور ایمان دونوں اپنا اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔اس کے نزدیک آغاز میں مذہبی عقائد عقلی بنیادوں پر ہی قائم تھے کیونکہ ایمان اور یقین ظن محض سے پیدا 35