الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 604 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 604

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 573 دیوار گریہ سے اپنا سر کراتے چلے آرہے ہیں اور مسیح کی جلد آمد کے لئے التجائیں کر رہے ہیں مگر انہیں یہ احساس تک نہیں ہوا کہ وہ تو آکر چلا بھی گیا۔لیکن اس کا ظہور اس رنگ میں نہیں ہوا جیسے یہود اس کی توقع کر رہے تھے اور جس کو وہ اس کی آمد سے منسوب کئے بیٹھے تھے۔تصور تو کریں کہ وہ امید و بیم کی کس کیفیت سے دو چار ہوئے ہوں گے کہ جس دروازہ کو انہوں نے اپنے گمان میں کھول رکھا تھا وہ عملاً مقفل ہو چکا تھا۔انہیں کیسی شدید مایوسی کا سامنا ہوا ہو گا۔اس کا اندازہ وہی کر سکتا ہے جو اپنے محبوب ترین مہمان کا منتظر ہو مگر وہ کوئی روک نہ ہونے کے باوجود بھی نہ آئے۔در حقیقت وہ تمام لوگ جو کسی روحانی وجود کی آمد کے منتظر ہیں اس کی آمد کے راستہ میں نا قابل عبور روکیں پیدا کرنے کے خود ہی ذمہ دار ہیں۔بوجوہ وہ اس حقیقت سے بھی بیخبر ہیں کہ اگر ان لوگوں کو اتنا احساس ہی ہو جائے کہ ان کی خود ساختہ توقعات کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتیں تو کم از کم اتنا فائدہ تو ہو کہ انہیں کچھ نہ کچھ قرار آ جائے جو لا محالہ مایوسی کے نتیجہ میں پیدا ہوا کرتا ہے۔کیونکہ رکاوٹیں امیدوں کو مسمار کر دیا کرتی ہیں اور اگر حقائق سے نظریں نہ چرائیں تو آتش شوق کے شعلے سرد پڑ جاتے ہیں۔لیکن ان حقائق سے نظریں چرانے والے اپنی بے چینی اور نا کامی کے خود ہی ذمہ دار ہوا کرتے ہیں۔اپنی تمام تر دانائی کے باوجود یہود کا اس سادہ سی حقیقت سے آنکھیں بند کر کے اپنے مسیح کی آمد کے انتظار پر اصرار اور ضد اس کی ایک واضح مثال ہے۔مسیح اب کبھی نہیں آئے گا۔چیخنے چلانے اور پتھر کی دیوار کے سائے تلے رونے دھونے کے علاوہ اب ان کے مقدر میں کچھ بھی تو نہیں۔وہ جس کا انہیں انتظار ہے کبھی نہیں آئے گا۔کبھی نہیں آئے گا۔لیکن دانائی اور نادانی کے اس عجیب امتزاج کے حامل صرف یہود ہی نہیں بلکہ دیگر اہل مذاہب کا بھی یہی حال ہے۔وہ بھی یہود کی طرح آخری منجی کے منتظر ہیں۔گویاڈرامہ تو وہی ہے البتہ ادا کار بدلتے رہتے ہیں۔یہود کی نجات کے لئے ایک مسیح کی سخت ضرورت تھی جو فی الحقیقت آ بھی گیا لیکن یہ ان کا وہ خیالی مسیح نہیں تھا جس کا وہ انتظار کر رہے تھے۔یہی وجہ تھی کہ وہ اسے پہچانے میں ناکام رہے۔وہ تو یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ مسیح سر پر تاج سجائے تخت شاہی پر جلوہ گر ہوگا۔نیز ان کا عقیدہ تھا کہ وہ ایک جنگجو مسیح ہو گا جو ظالم رومی سلطنت کے خلاف اسرائیلی فوجوں کی فاتحانہ شان سے قیادت کرے گا۔یہود کی حضرت عیسی علیہ السلام کی تکذیب پر دو ہزار