الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 548 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 548

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 519 اور دوسرے دروازہ سے اسلام کا تابناک ماضی سرنگوں ہو کر رخصت ہوا جس کی واپسی کا ایک ایک قدم نا قابل برداشت حد تک کر بنا ک تھا۔سورۃ التکویر کی چوتھی آیت جو پہاڑوں کے ایک جگہ سے دوسری جگہ حرکت کرنے کا ذکر کرتی ہے، یہ ہے۔وَإِذَا الْجِبَالُ سُيْرَتْ (التكوير 4:81) ترجمہ: اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔اسلامی اصطلاح میں پہاڑوں سے مراد بڑی بڑی دنیاوی طاقتیں ہیں۔قرآن کریم کی دیگر بہت سی آیات میں پہاڑوں کا لفظ انہی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔چنانچہ اس آیت سے جس میں پہاڑوں کا ذکر ہے، سے ہمیں آخری زمانہ میں رونما ہونے والے واقعات کا علم ہوتا ہے کہ اسلام کے زوال پذیر ہوتے ہی ایک تاریک رات چھا جائے گی جس کے بعد ایک نئی صبح طلوع ہوگی جو اسلام کی صبح نہ ہوگی بلکہ اس میں عظیم مادی قو تیں ابھریں گی اور اپنی سلطنت کو ایک علاقہ سے دوسرے علاقہ اور ایک براعظم سے دوسرے براعظم تک وسیع کر دیں گی نیز ایک کے بعد دوسرے ملک پر قبضہ کرتی چلی جائیں گی۔چنانچہ پہاڑوں کی حرکت کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں۔ان کے علاوہ پہاڑوں کی حرکت کے کئی اور معانی بھی ہو سکتے ہیں جن پر ہم بعد میں گفتگو کریں گے۔چونکہ اب ہم ان عظیم تبدیلیوں کا دوبارہ جائزہ لے رہے ہیں جن کا اس سورۃ کے مطابق موجودہ زمانہ میں رونما ہونا مقدر تھا اس لئے ہم اس مضمون کو قرآنی آیات کی ترتیب کے مطابق مرحلہ وار بیان کرتے ہیں۔حرکت سے متعلق پانچویں آیت کا مفہوم بآسانی سمجھ آسکتا ہے۔یہ آیت یوں ہے۔وَإِذَا الْعِشَارُ عَطِلَتْ (التكوير (58) ترجمہ: اور جب دس ماہ کی گا بھن اونٹیاں بغیر کسی نگرانی کے چھوڑ دی جائیں گی۔اس سیاق و سباقی میں اونٹیوں کے بیکار ہونے کی پیشنگوئی سے واضح طور پر یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ پہلے سے بہتر، تیز تر اور زیادہ طاقتور ذرائع نقل و حمل ایجاد ہو جائیں گے۔پہاڑوں کی ایک