الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 27
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 27 کو تباہ کرنے کے درپے تھا۔چنانچہ ایک طرف تو صوفی صاحب کو کھلے میدان میں لاکھڑا کیا گیا اور دوسری جانب ہاتھی کو کھلا چھوڑ دیا گیا۔صوفی صاحب حواس باختہ ہو کر اپنی جان بچانے کیلئے بھاگ کھڑے ہوئے۔بادشاہ اپنے محل کے جھروکہ سے یہ نظارہ دیکھ رہا تھا۔صوفی کو یوں بھاگتا دیکھ کر بولا: صوفی صاحب! آپ کو اس موہوم ہاتھی کو دیکھ کر بھاگنے کی کیا ضرورت ہے۔یہ تو محض آپ کے تصور کا واہمہ ہے۔صوفی بولا، بھاگ کون کم بخت رہا ہے۔یہ بھی آپ کے تصور کا واہمہ ہے۔اس طرح صوفی کو خطرناک صورت حال سے چھٹکارا تو مل گیا لیکن یہ بحث آج بھی بڑے زور شور سے جاری ہے۔اس بحث کا ذکر گزر چکا ہے کہ تجربہ و مشاہدہ اور الہام دونوں میں مسلم سپین کا مکتبہ فکر سے کس کو فوقیت حاصل ہے بعض مظفر ین وحی کو منطق پر ترجیح دیتے ہیں اور بعض اس کے برعکس خیال کرتے ہیں۔ابن رشد نے جو مغرب میں Averroes کے نام سے معروف ہیں اور عظیم ترین مسلمان مفکرین میں سے ایک ہیں، یہ خیال پیش کیا کہ مندرجہ بالا نظریات متوازی سچائیوں پر مبنی ہیں۔لہذا ان پر الگ الگ غور کرنا چاہئے۔الہامی سچائی کو من وعن قبول کرنا چاہئے جبکہ مشاہدہ اور تجربہ کو مشاہدہ اور تجربہ کی حد تک رکھنا چاہئے۔ان کے نزدیک الہام اور تجربہ کے مابین ربط تلاش کرنا ضروری نہیں اور نہ ہی اس امر کی ضرورت ہے کہ دونوں میں متناقضات تلاش کئے جائیں اور ان کے حل کیلئے سرگردان ہوا جائے۔یہ وہ دور تھا جب ہسپانیہ میں مسلمان سائنسدان سائنس کے میدان میں تیزی سے ترقی کر رہے تھے اور انہیں اس امر کی پروا نہیں تھی کہ پرانے مکاتب فکر کے بعض مذہبی علماء ان کے خلاف بدعتی یا ملحد ہونے کے فتوے جاری کر رہے ہیں۔ابن رشد نے غالباً بہتر یہی سمجھا کہ وہ ان تنازعات میں نہ الجھیں مبادا یہ امر سائنسی ترقی کی راہ میں حائل ہو جائے۔انہوں نے مذہب اور سائنس میں تضادات ابھرنے کے خدشہ کے پیش نظر اس بحث میں الجھنے سے عملا گریز کیا۔ایک کچے مسلمان اور صداقت کے غیر جانبدار متلاشی سائنسدانوں کی حکمت عملی ہسپانیہ میں ایک لمبے عرصہ تک مذہب اور سائنس کی ترویج میں محمد رہی۔الہامی اور مشاہداتی سچائی کے مابین موجود اس