الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 26 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 26

26 اسلامی مکاتب فکر والوں کو ایک ہی چیز کا رنگ مختلف نظر آئے گا۔اسی طرح ضروری نہیں کہ تمام انسانی استعدادیں ہر ایک میں یکساں ہوں۔قوت شامہ ایک سی نہیں ہوتی۔اسی طرح ہر شخص کا گرمی سردی کا احساس بھی مختلف ہوتا ہے۔علاوہ ازیں مختلف مزاجوں اور مختلف جسمانی حالتوں کے حوالہ سے مسئلہ مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔کوئی معروضی حقیقت انسانی ذہن میں موجود کسی بھی موضوعی حقیقت سے مکمل طور پر متفق دکھائی نہیں دیا کرتی۔المختصر، ضروری نہیں کہ موضوعی تاثرات زمینی حقائق کی ہو بہو عکاسی کرتے ہوں۔یہی وجہ ہے کہ بعض طبقوں کے نزدیک دیکھنے والا کبھی بھی کامل یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ وہ کیا دیکھ رہا ہے۔اس لحاظ سے انسانی تجربہ جس تشلک اور اشتباہ سے دو چار ہے اور جس کا ذکر اوپر کیا گیا ہے، صوفیاء کے ایک ایسے فرقہ کے معرض وجود میں آنے کا باعث بنا جس نے اشیاء کے خارجی وجود کو یکسر مسترد کر دیا اور دعویٰ کیا کہ ابدی حقیقت محض ایک باطنی کیفیت کا نام ہے جس کی کوئی معروضی حیثیت نہیں۔کچھ صوفی جو ان سے بھی زیادہ انتہا پسند تھے، انتہا پسندی میں اس سے بھی آگے نکل گئے۔انہوں نے مادی اشیاء کے وجود کا سرے سے ہی انکار کر دیا یہاں تک کہ وہ اپنے مادی وجود سے بھی انکار کر بیٹھے۔چنانچہ ایک علمی تحریک جو شروع تو اس لئے ہوئی تھی کہ حقائق الاشیاء کا لطیف در لطیف اور اک کر سکے بالآخر ایک گونہ دیوانگی کا شکار ہو گئی۔تاہم اس دیوانگی میں ایک عجیب سحر تھا جس نے اپنے وقت کے علماء اور منطقیوں کو بھی مسحور کر دیا۔اس فرقہ کے ایک مشہور صوفی رہنما کے بارہ میں ایک دلچسپ واقعہ بیان کیا جاتا ہے۔بعض سرکردہ علماء سے مناظرہ کیلئے اسے بادشاہ کے دربار میں طلب کیا گیا لیکن حاضرین کی حیرت اور جھنجھلاہٹ کی انتہا نہ رہی جب بحث کا نتیجہ ان کی توقعات کے بالکل برعکس نکلا۔سوال و جواب کے آغاز ہی میں یہ دبستانی علماء حواس باختہ ہو گئے اور دلائل کیلئے ہاتھ پاؤں مارنے لگے مگر بن نہ آئی اور کوئی بھی اس صوفی کی ماورائی اور باریک منطق کا مقابلہ نہ کر سکا۔اس موقع پر بادشاہ کو ایک عجیب خیال سوجھا۔اس نے فیل خانہ کے مہاوت کو حکم دیا کہ سب سے خونخوار ہاتھی کو حمل کے احاطہ میں لایا جائے۔یہ ہاتھی دیوانگی کا شکار تھا جو شاید صوفی کی دیوانگی سے کسی طور کم نہ تھی۔اگر فرق تھا تو صرف اتنا کہ صوفی صاحب تو فقط خارجی اشیاء کے وجود کے منکر تھے جبکہ ہاتھی خارج کی موجودات