الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 513 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 513

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 487 موجود نہیں ہے تو ان میں کسی ایسی تفریق کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔چونکہ ماہرین حیاتیات یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ جاندار اشیاء کے حوالہ سے کوئی باشعور ہستی موجود نہیں ہے، لہذا انہیں لازماً یہ ماننا پڑے گا کہ اس لحاظ سے جاندار اور بے جان اشیاء میں کوئی فرق نہیں رہتا۔باقی تو صرف قوانین قدرت ہی بچتے ہیں جو جاندار اور بے جان مخلوق دونوں میں یکساں طور پر کارفرما ہیں۔اگر یہ قوانین بجائے خود زندگی کے اجزائے ترکیبی جیسی پیچیدہ اشیاء کے خالق ہو سکتے تو ان کیلئے ایمپائرسٹیٹ بلڈنگ کی تعمیر تو ایک طرف، رائی کا پہاڑ بنانا بھی بائیں ہاتھ کا کھیل ہونا چاہئے۔اس سلسلہ میں واحد اعتراض جو درحقیقت اعتراض ہے ہی نہیں، یہ اٹھایا جا سکتا ہے کہ اس کام کیلئے دستیاب وقت بہت کم ہے حالانکہ یہ قوانین ارتقائے حیات کے مقابلہ میں بے جان اشیاء پر کہیں زیادہ وقت صرف کر چکے ہیں۔سر دست ایمپائر سٹیٹ بلڈنگ کو بھول جائیں کیونکہ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ اس کو ایک باشعور ذہن نے تخلیق کیا۔اس کی کی جگہ ذرا تصور تو کریں کہ اس سے کہیں زیادہ بلند و بالا اور بے شمار جزئیات پر مشتمل آسمان سے باتیں کرنے والی عمارات سینکڑوں اور ہزاروں کی تعداد میں تقریباً پچھلے پندرہ ارب سال کے عرصہ میں محض قوانین قدرت کے عمل سے معرض وجود میں آگئیں۔یاد رہے کہ جاندار اور بے جان مخلوق دونوں پر قوانین قدرت کا اطلاق ہوتا ہے اور یہ بھی یادر ہے کہ ماہرین حیاتیات کے مطابق ہر دو صورتوں میں کسی باشعور ذہن کا وجود یکسر خارج از امکان ہے۔اس لحاظ سے ان دونوں کے مابین تفریق کرنا بعید از عقل ہے۔چنانچہ جاندار مخلوق اور بے جان اشیاء کی تدریجی تخلیق میں پیچیدگی اور نظم وضبط یکساں طور پر نظر آنا چاہئے۔لہذا جو شخص یہ یقین رکھتا ہے کہ زندگی کی تخلیق کے پس منظر میں کوئی باشعور ذہن کارفرما نہیں ہے اس کو اپنے گمان کے مطابق یہ حق بھی پہنچتا ہے کہ وہ ایمپائر سٹیٹ بلڈنگ کی چھت پر سے بآواز بلند یہ اعلان کرے یہ عمارت کھرب ہا کھرب اندھے اتفاقات کے نتیجہ میں معرض وجود میں آئی ہے۔نہ تو اس کے پیچھے کوئی منصوبہ کارفرما ہے اور نہ ہی کسی باشعور ذہن نے اسے تشکیل دیا ہے۔یہ عمارت محض ایک واہمہ ہے جسے بعض احمق اور مذہبی جنونی حقیقت سمجھ رہے ہیں کیونکہ وہ اس کی اعلیٰ اور خوبصورت صناعی سے خواہ مخواہ متاثر ہو بیٹھے ہیں۔“ اس قسم کے اعلان کی توقع اتنی ہی شدت کے ساتھ نظریہ ارتقا کے ان حامیوں کی طرف