الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 504
478 وقت کا اندھا ، بھرہ اور گونگا خالق پر مبنی ہو کہ جینز کب اور کیسے ہزاروں دیگر اندرونی عوامل کے ساتھ مل کر اچانک فعال ہو جاتے ہیں، محض افسانہ ہے نہ کہ حقیقت۔کمپیوٹر گیمز کا بہت ذکر ہو چکا! اب ہم شہد کی مکھی کا ذکر کرتے ہیں۔ڈارون کے اصولوں کے ماتحت شہد کی مکھی کے اندرونی نظام کا تصور بھی ممکن نہیں جب تک ایک ایسے خالق کے وجود کو تسلیم نہ کر لیا جائے جس کے ذہن میں پہلے سے ایسے نظام کا معین نقشہ موجود ہو۔یہ کیسے ممکن ہے کہ جینز نے خود بخود شہد کی مکھی میں موجود حیرت انگیز اور عجیب وغریب صلاحیت پیدا کر لی ہو۔اس امر کو سمجھنا بھی اتنا ہی مشکل ہے جتنا اوّل الذکر امر کو۔کیا کوئی سائنسدان بتا سکتا ہے کہ کس طرح یہ اندرونی نظام اپنی تمام مخصوص صلاحیتوں سمیت رفتہ رفتہ خود ہی وجود میں آگیا ؟ شہد کی مکھی کا بصری نظام جو پھولوں اور پھلوں کی دنیا کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ ہے ان ماہرین حیاتیات کیلئے جو نظام تخلیق میں کسی منصوبہ کے قائل نہیں، بذات خود ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔آخر وہ کونسی قوتیں ہیں جنہوں نے انہیں تشکیل دیا۔اور اگر ان قوتوں کا کوئی وجود نہیں تو یہ نظام رفته رفته از خود کیسے وجود میں آگیا ؟ بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی۔شہد کی مکھیاں جس طریق پر اپنا چھتا بناتی ہیں اور اس کے لئے ساز و سامان اکٹھا کرتی ہیں، ماہرین حیاتیات کو اس کی وضاحت کرنا ہوگی۔محض ساز و سامان اکٹھا کرنا تو تمام جانوروں کا مشترکہ خاصہ ہے۔لیکن ایک خاص مقصد کو مدنظر رکھ کر ایسا سامان خود تیار کرنا شاذ کا حکم رکھتا ہے اور شہد کی مکھی بعینہ یہی کرتی ہے۔مکھی کی پچھلی ٹانگ کا بڑا جوڑ پیٹ کے نچلے حصہ میں واقع غدودوں کے چار جوڑوں کے ذریعہ موم کے باریک چھلکوں کو اکٹھا کر کے آگے دھکیل دیتا ہے جہاں اگلی ٹانگیں اور مینڈ سیلز (mandibles) مل کر اس سے چھتا بنانے کا کام لیتے ہیں۔موم کو لعاب دہن سے ملا کر اس طرح گوندھا جاتا ہے تا کہ اس میں اس قدر نرمی اور لچک پیدا ہو جائے جو مطلو بہ شکل میں ڈھالنے کیلئے ضروری ہے۔23 کیا وجہ ہے کہ ایک کیڑا جس کا دماغ مادی دنیا کی سائنسی پیچید گیوں کو سمجھ نہیں سکتا، اچانک