الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 505 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 505

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 479 انہیں اپنے مفاد کیلئے استعمال کرنے لگے؟ اس طرح شہد کی مکھی کے دماغ کا بتدریج ترقی پانا اور اس امر کا وجدان کہ اسے اپنا چھتا کس طرح بنانا چاہئے اور اس کے لئے کن اشیاء کی ضرورت ہے، یہ سب کچھ لازما کسی علیم و خبیر ہستی کی طرف سے اس کی فطرت میں ودیعت کیا گیا ہے۔لیکن معاملہ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے جتنا بظا ہر دکھائی دیتا ہے۔شہد کا چھتاشش پہلو خانوں پر مشتمل ہوتا ہے جن کی دیوار میں ٹھیک 120 ڈگری کے زاویہ پر باہم ملتی ہیں۔چھتا بذات خود حیواناتی فن تعمیر کا ایک حیرت انگیز نمونہ ہے۔یہ شش پہلو خانوں پر مشتمل ہوتا ہے جو بڑی ترتیب سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہوتے ہیں اور متوازی قطاروں میں واقع ہوتے ہیں۔مزید برآں ہر خانہ ساتھ والے خانے سے ایک معین فاصلے پر واقع ہوتا ہے“۔24 شہد کی مکھیاں انجینئرنگ کی شاندار مہارت کا مظاہرہ کرتی ہیں اور ان کی تعمیر سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ انہیں پیمائش کرنے والے نہایت ترقی یافتہ اور حساس آلات سے لیس کیا گیا ہے۔ایک نئے چھتے کی مضبوطی اور اس کا ہر پہلو سے صحیح اور مکمل ہونا ایک غیر معمولی امر ہے۔مثلاً 25 ہر خانہ کی دیوار کی موٹائی 0۔002+0۔073 ملی میٹر ملحقہ دیواروں کا زاویہ ٹھیک 120 ڈگری اور ہر خانہ اپنے قریبی خانہ سے 0۔95 سینٹی میٹر کے فاصلہ پر واقع ہوتا ہے ایک جیسے انڈوں سے پیدا ہونے والے بچے تقسیم کار کے لحاظ سے تین مختلف گروہوں میں منقسم ہوتے ہیں۔ملکہ کارکن اور لکھنو۔ملکہ ایک دن میں ہزاروں انڈے دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔اہم باسٹمی ملکہ چھتے پر حکمرانی کرتی ہے۔کارکن ہمہ وقت اس کی خدمت پر مامور رہتے ہیں اور اس کیلئے بہترین مقوی غذا مہیا کرتے ہیں تا کہ وہ کالونی میں اپنے محدود مفوضہ اور اہم فرائض سرانجام دے سکے۔ملکہ کے چھر میرے بدن سے اس کی بڑی بڑی بیضہ دانیوں کا اندازہ نہیں ہوتا جو اسے ایک ایسی غیر معمولی مشین میں تبدیل کر دیتی ہیں جو ایک دن میں ہزاروں انڈے دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ملکہ کی حرکات وسکنات سے ان اشاروں کا اندازہ نہیں