الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 487
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 465 بلخ کی چونچ والا پلے ٹپس (platypus) بجلی کی موجودگی کے بارہ میں اس قدر حساس ہے کہ ماحول میں پائی جانے والی بجلی کے ایک وولٹ (فی سنٹی میٹر) کے پچاس کروڑ ویں حصہ کو بھی محسوس کر لیتا ہے۔یہ صلاحیت اتنی زبردست ہے کہ انتہائی جدید اور حساس بجلی کے آلات اس کے پاسنگ بھی نہیں۔ہلے ٹپس کے لئے یہ کوئی مشکل کام نہیں کہ وہ جھینگا مچھلی کی دم سے خارج ہونے والی ایک سینٹی میٹر میں موجود ایک وولٹ کے ہزارویں حصہ کے برابر بجلی کو محسوس کرلے۔شارک اور رے (Ray) مچھلیاں تو ساکن شکار کی موجودگی کو بھی محسوس کر لیتی ہیں۔وہ شکار کے عمل تنفس کے دوران اس کے اعصاب سے پیدا ہونے والی بجلی کو محسوس کر لیتی ہیں چاہے شکار سمندر کی تہ کی تلچھٹ میں ہی چھپا ہوا کیوں نہ ہو۔13 شکاری پرندوں کی آنکھ دو گول پر دوں (fovea) اور ان کے درمیان موجود خلا پر مشتمل ہوتی ہے۔ان کی آنکھ کی بناوٹ اور یوزیشن ایسی ہے کہ وہ مکہتر عدسہ ( Telephoto Lens) کا کام کرتی ہے اور اشیاء کو حیرت انگیز حد تک بڑا کر کے دکھاتی ہے۔گدھ دو ہزار میٹر یا اس سے بھی زیادہ بلندی سے میلوں کے فاصلہ پر اپنا شکار ڈھونڈ لیتے ہیں۔14 سخت خول والے کو پیلیا (copilia) کی آنکھیں بھی بہت عجیب و غریب ہیں۔آنکھ کے ایک عدسہ سے تو وہ عکس بناتا ہے اور دوسرے متحرک عدسہ اور پردہ چشم یعنی ریٹینا کی مدد سے اس عکس کا بغور معائنہ کر کے تصویر مکمل کرتا ہے ہے۔پردہ چشم میں روشنی کو محسوس کرنے والے صرف نو نقاط ہوتے ہیں جو کسی بھی عکس کو دس مرتبہ فی سیکنڈ کی رفتار سے دیکھ کر تصویر کو مکمل کر لیتے ہیں۔15 الیکٹرک ایل (eel) کی دم میں 70 قطاروں میں منقسم دس ہزار نہایت چھوٹے چھوٹے برقی اجزاء ہوتے ہیں۔مچھلی کا نصف سے بھی زائد جسم صرف بجلی پیدا کرتا ہے جو نا قابل یقین حد 16 تک 550 وولٹ طاقت کی ہوتی ہے اور ایک انسان کو ہلاک کر سکتی ہے۔“ ہم بڑے احترام سے پروفیسر ڈاکنز کی توجہ ہزاروں میں سے ان چند حقائق کی طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں جو اب تک سائنسدانوں کے علم میں آچکے ہیں۔ہماری ان سے گزارش ہے کہ وہ کمپیوٹر کے بچگانہ کھیلوں میں الجھ کر اپنا اور قاری کا وقت خواہ مخواہ ضائع نہ کریں۔کیا وجہ ہے