الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 437 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 437

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 423 روحانی ارتقا کی کامل صورت تک پہنچنے میں ارب سال یا اس سے بھی زائد عرصہ لگے۔ہم یہ نتیجہ اس لئے اخذ کر رہے ہیں کہ بعث بعد الموت انسان کی عدم تخلیق کے مشابہ ہے۔ہمیں اب اس امر کا بخوبی علم ہو چکا ہے کہ ارتقائے انسانی کو حیات کی ابتدائی حالتوں۔موجودہ حالت تک پہنچنے میں کم وبیش ایک ارب سال کا عرصہ لگا۔چنانچہ انسانی تخلیق کا یہ مرحلہ اگر دوسرے مرحلہ یعنی بعث بعد الموت سے مشابہ ہے تو عین ممکن ہے کہ یہ مشابہت پہلی اور دوسری پیدائش کے درمیانی عرصہ پر بھی محیط ہو۔اس امر کے مزید ثبوت کیلئے قرآن کریم استخراجی منطق کا ایک منفرد انداز اختیار کرتا ہے۔اس ضمن میں چونکہ قرآنی آیات دیگر ابواب میں زیر بحث آچکی ہیں اس لئے یہاں اس امر کی مزید تشریح مقصود نہیں ہے۔ہم یہاں صرف اس طرز استدلال پر روشنی ڈالنا چاہتے ہیں۔اس جہان میں مستقبل میں ہونے والے بعض ایسے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے جن کے بارہ میں اس وقت کوئی انسان تصور بھی نہیں کر سکتا تھا قرآن کریم حیات بعد الموت کا بھی تذکرہ کرتا ہے اور بعض اوقات ذومعنی الفاظ بھی استعمال فرماتا ہے۔نیز ان آیات میں مذکور پیشنگوئیوں کا اطلاق دنیا اور آخرت دونوں پر یکساں ہو سکتا ہے۔چنانچہ جب یہ پیشگوئیاں اس دنیا میں اس طرح پوری ہو جاتی ہیں کہ کسی کیلئے بھی انہیں جھٹلا نا ممکن نہ رہے تو ثابت ہو جاتا ہے کہ آخرت کے متعلق واقعات بھی ضرور اپنے وقت پر پورے ہوں گے۔وہ مافوق البشر ہستی جو اس دنیا کے متعلق بیان کردہ واقعات کے پورا ہونے کی بنا پر کچی ثابت ہو چکی ہے اس پر آخرت سے متعلق بیان کردہ واقعات جو ہنوز معرض وجود میں نہیں آئے، کے بارہ میں بھی لازماً یقین کیا جا سکتا ہے۔اخروی زندگی کے بارہ میں یہی دلیل دی جا سکتی ہے کیونکہ موت سے قبل کسی اور ذریعہ سے اس کو ثابت کرنا ممکن نہیں۔موت کے بعد ایک ترقی یافتہ وجود کے امکان پر بحث کے بعد قرآن کریم کی بعض آیات اسی زمین پر زندگی کی ایک نئی حالت کا واضح طور پر ذکر کرتی ہیں جو بنی نوع انسان کی جگہ لے لے گی لیکن ان سے بالکل مختلف ہو گی۔أَلَمْ تَرَ انَّ اللهَ خَلَقَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ ، اِنْ يَّشَأْ يُذْهِبْكُم