الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 435
الهام ، عقل ، علم اور سچائی ترجمہ: اور ہم پر باتیں بنانے لگا اور اپنی خلقت کو بھول گیا۔کہنے لگا کون ہے جو ہڈیوں کو زندہ کرے گا جبکہ وہ گل سڑ چکی ہوں گی؟ ا فَعَيْنَا بِالْخَلْقِ الْأَوَّلِ بَلْ هُمْ فِي لَبْسِ مِنْ خَلْقٍ جَدِيدِن (ق 16:50) ترجمہ: کیا ہم پہلی تخلیق سے تھک چکے ہیں؟ نہیں! بلکہ وہ تو تخلیق نو کے متعلق بھی شک میں مبتلا ہیں۔وَكَانُوْا يَقُولُونَ أَبِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَعِظَامًا ءَ إِنَّا لَمَبْعُوثُونَ او اباؤُنَا الْأَوَّلُونَ (الواقعه 48:56-49) ترجمہ: اور کہا کرتے تھے کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں بن جائیں گے کیا ہم پھر بھی ضرور اٹھائے جائیں گے؟ کیا ہمارے پہلے آباؤ اجداد بھی؟ نَحْنُ قَدَّرْنَا بَيْنَكُمُ الْمَوْتَ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِيْنَ عَلَى أَنْ تُبَدِّلَ أمْثَالَكُمْ وَتُنْشِتَكُمْ فِي مَا لَا تَعْلَمُونَ وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْأَةَ الأولى فَلَوْلَا تَذَكَّرُونَ (الواقعه 61:56-63) 421 ترجمہ: ہم نے ہی تمہارے درمیان موت کو مقدر کیا ہے اور ہم باز نہیں رکھے جاسکتے کہ تمہاری صورتیں تبدیل کر دیں اور تمہیں ایسی صورت میں اٹھا ئیں کہ تم اسے نہیں جانتے۔اور یقیناً پہلی پیدائش کو تم جان چکے ہو۔پھر کیوں نصیحت حاصل نہیں کرتے ؟ اس طرح قرآن کریم کے ان دلائل کی روشنی میں انسان کے لئے آخرت پر ایمان لانا چنداں مشکل نہیں رہتا۔لیکن بات یہیں پر ختم نہیں ہو جاتی۔مَا خَلَقَكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ إِلَّا كَنَفْسٍ وَاحِدَةٍ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ (لقمان 29:31)