الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 427 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 427

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 413 ولیم کر انٹس (William Krantz)، کیون بے گلیسن (Kevin J۔Gleason ) اور نیلسن کین (Nelson Kaine) اپنے مضمون "Patterned Ground " میں لکھتے ہیں۔فطرت میں پائی جانے والی ترتیب و تنظیم در اصل قاعدہ نہیں بلکہ استثنا ہے۔نظام نشسی کا باہمی مربوط سلسلہ، جاندار اشیاء کی پیچیدہ تشکیل اور قلموں (crystals) کی منتظم ترتیب سب عارضی اور نا پائیدار نقوش ہیں جو بالآخر فساد اور بدنظمی کا شکار ہو جائیں گے۔کائنات کی غالب حقیقت اس کی ہر آن زائل ہوتی ہوئی توانائی ہے۔اس کے باوجود فطرت میں ترتیب و تنظیم کا پایا جانا حیرت انگیز ہے۔‘5 علاوہ ازیں دیگر بہت سے سائنس دان تخلیق کے آغاز اور حیات کے تعلق میں وقت اور اتفاق کے کردار پر نظر ڈالنے کے بعد اس ناگزیر نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ اس کائنات کی تشکیل، منصوبہ بندی، ترتیب اور تخلیقی عمل کو برقرار رکھنے کے لئے ایک حکیم و علیم ، قادر مطلق اور حتی و قیوم ہستی کا وجود لازمی ہے۔ایسا وجود جس کے بغیر زندگی کی تخلیق اور ارتقا کا حسابی نقطہ نظر سے تو تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔بارگن (Horgan) اپنے مضمون 'In the Beginning' میں کرک (Crick) کے اس مشاہدہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: حیات کا آغاز تقریباً ایک معجزہ ہے۔کیونکہ محض اس کی ابتداء ہی کے لئے بے شمار شرائط کا پورا کیا جانا ضروری تھا۔6 سوال یہ ہے کہ ” تقریبا مجزہ کیوں؟ در حقیقت یہ تو ایک عظیم الشان معجزہ ہے۔ہارگن مزید لکھتے ہیں:۔دد بعض سائنس دان یہ دلیل دیتے ہیں کہ اگر بعض واقعات کو وقت کے مناسب پس منظر میں دیکھا جائے تو بظاہر ناممکن واقعات بھی ممکن نظر آنے لگتے ہیں۔مثلاً کیمیاوی عناصر کے بے ترتیب ملاپ کے نتیجہ میں ایک خلوی جانداروں کی از خود تخلیق۔7 لیکن سوال یہ ہے کہ زندگی کی پیدائش کیلئے اس قسم کے کتنے اتفاقات درکار ہوں گے۔نامور برطانوی ماہر فلکیات فریڈ ہوئیل (Fred Hoyle) اس پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے رقمطراز ہیں: