الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 12
12 فرد اور معاشرہ مکمل شکل میں اچانک معرض وجود میں آگیا ہو۔ایسی مربوط اور مرتب طرز حیات سے زیادہ سے زیادہ یہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ نظم وضبط کا یہ ملکہ انہیں فطر ناور بیعت کیا گیا ہے۔مثال کے طور پر کچھ حشرات الارض ہی کو لیں۔آپ شہد کی مکھی کے معاشرتی نظام کو ارتقا کی کس منزل پر رکھیں گے؟ اگر شہد کی مکھی نے اپنی ارتقائی منازل مرحلہ وار تدریجا طے کی ہیں تو اس سے پہلے اس کی کیا شکل تھی اور اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ حشرات الارض کا ایک ایسا سلسلہ بھی موجود تھا جو درجہ بدرجہ ترقی کرتا ہوا بالآخر شہد کی مکھی کی تخلیق پر منتج ہوا؟ اسی طرح دیمک اور دوسرے کیڑے مکوڑوں کا مطالعہ کرتے وقت بھی ہمیں ایسی ہی مشکلات پیش آتی ہیں۔یہاں بھی کسی تدریجی ارتقا کے آثار نظر نہیں آتے۔یہ مخلوق ابتداء ہی سے ایک طے شدہ اور معین نظام کے تحت اپنے مخصوص وظائف پوری تندہی سے بجالا رہی ہے جو ان کے RNA اور DNA پر اس طرح نقش ہے کہ وہ اس سے سرمو بھی انحراف نہیں کر سکتے یہاں تک کہ انتہائی منضبط اور منتظم اشترا کی معاشرے بھی ان کے سامنے پانی بھرتے نظر آتے ہیں۔یہ سب کے سب اپنی اپنی جگہ ایسی استثنائی اور منظم تخلیق کے عجائبات ہیں جن کے بارہ میں ایسے کوئی شواہد نہیں ملتے جن سے ثابت ہو سکے کہ انہوں نے کسی ابتدائی شکل سے رفتہ رفتہ ترقی کرتے ہوئے ایک انتہائی منتظم معاشرہ کی صورت اختیار کر لی ہو۔لہذا تخلیق حیات کا دو طرح سے مطالعہ کرنا ہو گا۔اوّل یہ کہ حیات خدا تعالیٰ کے تخلیقی ارادہ سے یکدم عدم سے وجود میں آگئی۔ہو سکتا ہے کہ سائنسدان اسے بیک وقت ہونے والے بہت سے جینیاتی تحولات کا نتیجہ قرار دیں۔لیکن یہ مفروضہ سائنسی لحاظ سے قابل اعتنا نہیں ہے۔عالم حیوانات کی اجتماعی ترقی کی دوسری قسم عمومی ہونے کے ساتھ ساتھ ارتقائی بھی ہے۔اگر چہ اس کے نتائج اوپر بیان کردہ مثالوں کی طرح اتنے ڈرامائی نہیں۔کتوں، بھیڑیوں اور چکاروں میں بھی اجتماعی بقا کی خاطر مل جل کر رہنے کا مثبت رجحان پایا جاتا ہے۔وجوہات خواہ کچھ بھی ہوں، یکی میلان پرندوں میں بھی پایا جاتا ہے۔اسی طرح مچھلیوں ، کچھووں اور بحری خارپشت میں بھی ایسی ہی خصوصیات دیکھنے میں آتی ہیں۔پس اجتماعیت زندگی کا خاصہ ہے۔نظم و ضبط کے نتیجہ میں ہی حاکمیت کا تصور جنم لیتا ہے، قیادت ابھر کر سامنے آتی ہے اور