الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 366
360 قدرت میں سمت پزیری یا کائریلینی قوت شامہ کے غدود (Olfactory Glands) مالٹے اور لیموں میں موجود لائمونین کے مالیکیولز کی مختلف گردش کی بنیاد پر ان دونوں کی خوشبو میں تمیز کر لیتے ہیں۔یقیناً اس کی کوئی نہ کوئی وجہ تو ہوگی۔جو ابھی تک دریافت نہیں ہو سکی۔اس خصوصیت کے حیات پر اثر انداز ہونے کی ایک ہولناک مثال 1963 ء میں اس وقت منظر عام پر آئی جب حاملہ خواتین کو صبح کے وقت ہونے والی متلی کے علاج کے لئے ایک دوا ساز کمپنی نے ایک دوائی Thalidomide متعارف کرائی۔کئی مریض تو اس سے ٹھیک ہو گئے۔لیکن بہتوں کیلئے یہ دوا خطرناک ثابت ہوئی۔اس دوائی کے استعمال سے بعض خواتین کے ہاں ایسے بچے پیدا ہوئے جو پیدائشی طور پر معذور تھے۔بعد کی گہری تحقیق سے پتہ چلا کہ جس دوا ساز کمپنی نے یہ دوائی تیار کی تھی اس نے لاعلمی میں ایک ہی فارمولے کی دو اقسام تیار کر دیں جن کے مالیکیولز کی حرکت مخالف سمتوں میں تھی۔ایک دوائی جنین پر مضر اثرات ڈالے بغیر مفید ثابت ہوئی جبکہ دوسری قسم متلی کے علاج کی بجائے خوفناک پیدائشی نقائص کا باعث بنی جوز زیادہ تر نومولود بچوں کے نچلے دھتر میں پائے گئے۔ایک سمت کی گردش کی دوسری سمت کی گردش پر ترجیح کی ایک حیرت انگیز مثال حیات کی ابتدائی سطح کے مطالعہ سے معلوم ہوتی ہے۔اگر چہ قدیمی شور بہ (Primordial soup) میں سینکڑوں امینوایسڈ موجود تھے جن سے ایسے لحمیات تخلیق ہوئے جو زندگی کی بنیاد بنے یعنی DNA اور RNA۔لیکن قدرت نے ان میں سے صرف ایسے ہیں امینوایسڈ منتخب کئے جن میں مالیکیولز کی گردش بائیں طرف تھی۔مگر شکر بنانے والے مالیکیولز میں معاملہ برعکس تھا۔شکر کے چار مختلف اقسام کے تمام مالیکیولز جو زندگی کی تمام انواع کو توانائی مہیا کرتے ہیں بلا استثنا دائیں سمت میں گردش کرتے ہیں اس کا مطلب یہ ہوا کہ قدرتی ذرائع مثلاً گنا ، چقندر اور پھل وغیرہ سے مہیا ہونے والی شکر جو زندگی کو توانائی فراہم کرتی ہے، کے تمام مالیکیولز دائیں طرف گردش کرتے ہیں۔اس کے باوجود شکر کی تیاری کے سلسلہ میں چند سال پہلے ایک کامیاب تجربہ کیا گیا جس سے حاصل شدہ شکر کے تمام مالیکیولز بائیں طرف گردش کرتے تھے۔اس دوران یہ انکشاف ہوا کہ مصنوعی طور پر تیار کی جانے والی یہ شکر اگر چہ ذائقہ، کیمیائی خصوصیات اور پکانے میں قدرتی شکر