الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 352
346 بقا : حادثه یا منصوبه بندی ؟ بناتے ہیں۔اوزون ان شعاعوں کے براہ راست اثر سے تیار ہوتی ہے لیکن اس عمل میں یہ اپنی محسن یعنی بالائے بنفشی شعاعوں کو ہی تباہ کرنا شروع کر دیتی ہے۔زندگی کے دو خطرناک دشمنوں کو اس طرح باہم مصروف کر دینا کہ وہ آپس میں ہی برسر پیکار رہیں اور کوئی بھی جیت نہ سکے، ایک زبردست منصو بہ اور حیرت انگیز توازن ہے۔زمین پر حیات کے باقاعدہ آغاز سے قبل کے حالات پر نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ جب حیات نہایت ابتدائی مراحل میں تھی تو اس وقت اوزون کی تہ کی عدم موجودگی نے یقیناً ایک بہت بڑا مسئلہ کھڑا کر دیا ہو گا۔کاسمک شعاعوں کی بلا روک ٹوک بوچھاڑ قبل از حیات، مخلوقات کیلئے ا تباہ کن ثابت ہوئی ہوگی۔چنانچہ زندگی کے آغاز سے قبل ہی کرہ ہوائی کے بالائی حصوں میں اوزون کی کچھ مقدار تو موجود ہونی چاہئے تھی۔لازماً ایسا ہونا بھی چاہئے تھا مگر کیسے؟ یہ دو سوال ہے جس سے دانستہ طور پر پہلو تہی کی جاتی رہی ہے۔اس کا لازمی نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ زندگی ایسی متضاد قوتوں میں گھری ہوئی ہے جو ایک وقت موافق بھی ہیں اور مخالف بھی۔لیکن یہی دو متضاد قو تیں زندگی کے قیام کے لئے ضروری بھی ہیں۔لیکن معلوم ہوتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح حیات خدائی حفاظت میں ان خطرات سے بچ نکلی ہوگی۔سوا منكم من أمر القَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَهُ بِاليْلِ وَسَارِبُ بِالنَّهَارِ لَهُ مُعَقِّتُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ اللهِ (الرعد 11:13-12) ترجمہ: برابر ہے تم میں سے وہ جس نے بات چھپائی اور جس نے بات کو ظاہر کیا اور وہ جورات کو چھپ جاتا ہے اور دن کو ( سر عام ) چلتا پھرتا ہے۔اس کے لئے اس کے آگے اور پیچھے چلنے والے محافظ (مقرر ) ہیں جو اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔قرآن کریم میں اس قسم کی اور بھی بہت سی آیات ہیں جن میں زندگی کے ہرلمحہ کی حفاظت کا وعدہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کیا گیا ہے ورنہ زندگی ختم ہو کر رہ جائے۔حیات کی اعلی ترین بلندیوں کو پالینے والا انسان اگر اپنے نیچے بے شمار ادوار پر نظر ڈالے تو