الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 324
318 ارتقا میں چکنی مٹی اور ضیائی تالیف کا کردار زندگی کی پیداوار ہیں۔سمندر یا خشکی پر یہ مرکبات پہلے پہل کیسے وجود میں آئے جبکہ اس زمانہ میں صرف غیر نامیاتی مرکبات ہی موجود تھے۔اُس وقت جدید تجربہ گاہیں تو تھیں نہیں جو غیر نامیاتی سے نامیاتی مرکبات بنا سکتیں جیسا کہ آجکل کی جدید ادویہ سازی میں ہوتا ہے۔ابتدائی کام کرنے والے عظیم سائنسدانوں برنل (Bernal)، ہالڈین (Haldane)، ڈکرین (Dickerson)، ملر (Miller)، یوری (Urey)، کیرمز سمتھ (Cairns-Smith) اور اوپرن (Oparin) وغیرہ کو خراج تحسین پیش کیا جانا چاہئے کہ انہوں نے لیبارٹری سے باہر کے حالات میں، جو ان کے قابو میں نہیں تھے، غیر نامیاتی مرکبات کے نامیاتی مرکبات میں تبدیل ہو جانے کی گتھی کو سلجھانے کی کوشش کی۔ذیل میں ان کامیابیوں اور ناکامیوں کی حیرت انگیز داستان درج ہے۔ناکامیوں کا اعتراف انہوں نے خود کیا ہے جو ان کی عظمت کی دلیل ہے۔اس باب میں ان کی کاوشوں کا ذکر ہے کہ کس طرح انہوں نے ان معموں کو حل کرنے کی کوشش کی اور دوران تحقیق کیسے کیسے مختلف حل خود بخود ان کے سامنے آتے چلے گئے۔یہ صرف حیاتیاتی کیمیا کے عظیم کارناموں کی داستان نہیں بلکہ ہم آپ کی توجہ اس حقیقت کی طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں کہ جو سائنسی تحقیق بھی اس موضوع پر کی گئی وہ قرآن کریم کے مذکورہ بالا بیان کی مصدق ہے۔تحقیق در اصل ان نامیاتی مرکبات کے گرد گھومتی ہے جن کا تعلق حیات سے ہے اور اس میں صرف یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ ان کی ابتداء پانی سے ہوئی تھی۔یہ سائنسدان صرف اسی حد تک قرآن کریم سے متفق ہیں۔مگر قرآن کریم تو اس کے علاوہ ایک علیحدہ آغاز کا بھی ذکر کرتا ہے جو خشکی پر ہوا۔بات دراصل یہ ہے کہ اگر چہ نامیاتی مرکبات زمانہ قبل از تاریخ کے قدیم سمندروں کے آبی محلول میں ہی بنے ہوں گے۔مگر وہ آب پاشیدگی ( Hydrolysis) کے عمل کے باعث اپنی پہلی حالت میں واپس لوٹ جاتے ہوں گے۔اس اشکال کو حل کرنے کیلئے کوئی نظریہ پیش کرنا کہ ادنی درجہ کے نامیاتی مرکبات پرانی حالت میں لوٹ جانے کی بجائے بہتر سے بہتر ہوتے چلے گئے، ایک چیلنج تھا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اس ابتدائی نامیاتی مواد کی پانی میں موجودگی کے باعث ہائیڈ روجن ایٹم کے نئے کیمیکلز میں منتقل ہونے سے مادہ ہمیشہ ہی اپنی پہلی اور سادہ حالت میں