الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 323 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 323

ارتقا میں چکنی مٹی اور ضیائی تالیف کا کردار آگ کا ذکر تو کافی ہو چکا اب اس کے بالمقابل زندگی کی تخلیق میں پانی کے کردار کا مطالعہ کرتے ہیں۔جنوں کا دور ختم ہوا اور ایک بالکل مختلف دور کا آغاز ہوا جو جنوں کے زمانہ اور ضیائی تالیف (Photosynthesis) کے مابین واقع ہے۔اس درمیانی عرصہ میں وہ مادہ تیار ہوا جو آئندہ زندگی کی تخلیق کیلئے ضروری تھا۔اس دور میں گزرنے والے تخلیقی مراحل کا صحیح اندازہ درج ذیل بیان کے بغور مطالعہ سے ہو سکتا ہے۔کیمیا کی دو ہی بڑی شاخیں ہیں۔غیر نامیاتی کیمیا اور نامیاتی کیمیا۔غیر نامیاتی کیمیا کا تعلق ان مرکبات سے ہے جو معدنی صفات تو رکھتے ہیں لیکن ان کی پیدائش میں حیات کا عمل دخل نہیں ہوتا اور نہ ہی کاربن کی موجودگی کی وجہ سے ان کو نامیاتی قرار دیا جا سکتا ہے۔پانی ، خوردنی نمک اور پوٹاشیم غیر نامیاتی اس لئے کہلاتے ہیں کہ یہ زندہ خلیوں کے علاوہ بھی تقریباً ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔کاربن ڈائی آکسائیڈ بھی غیر نامیاتی ہے اگر چہ یہ خلیوں کے عمل تنفس کے دوران بنتی ہے۔کاربن ڈائی آکسائیڈ کے علاوہ جو ایک غیر نامیاتی مرکب ہے، کاربن تمام نامیاتی مرکبات میں پایا جاتا ہے اور ضروری نہیں کہ یہ مرکبات جاندار اجسام سے وجود میں آئے ہوں۔یہ باب ان تمام ابتدائی مراحل سے بحث کرتا ہے جو حیات کی ابتدائی اکائی کی تخلیق کے لئے ضروری تھے۔اس درمیانی اور نازک مرحلہ کے متعلق قرآن کریم کے بیان کو یہاں ہم اپنے الفاظ میں پیش کرتے ہیں یعنی یہ کہ آگ سے پیدا ہونے والے قدیم ترین بیکٹیریا کے دور کے بعد پانی نے ان سالموں کی تشکیل میں بڑا اہم کردار ادا کیا جو زندگی کی مختلف شکلوں کی تیاری کیلئے ضروری تھے۔بعض چوٹی کے سائنسدانوں نے اس معمہ کو حل کرنے کی کوشش کی ہے کہ زمین پر زندگی سے قبل نامیاتی مرکبات کیسے وجود میں آئے۔اصل مشکل یہ پیش آئی کہ تمام نامیاتی مرکبات تو خود 317