الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 4 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 4

تعارف : تاریخی تناظر میں پھر وہ نام نہا د فلسفی ہیں جنہوں نے ایسی پیچیدہ اور ادق اصطلاحیں وضع کر رکھی ہیں جو عام آدمی کے فہم سے بالا تر ہوتی ہیں۔اور اس طرح ان لوگوں نے اپنے نظریات کو پر اسرار لفاظی کے پردوں میں چھپا رکھا ہے۔تاہم فیثا غورث اور ابن رشد کی طرح کے ایسے مفکرین بھی ہیں جو فی الحقیقت سائنسی ذہن کے مالک ہونے کے ساتھ ساتھ صوفیانہ رنگ بھی اپنے اندر رکھتے ہیں۔یہ لوگ حقائق الاشیاء کی تلاش میں بہت گہرائی تک جاتے ہیں اور محل اشیاء کے خواہر پر ہی اکتفا نہیں کرتے۔ان کا بالاستیعاب مطالعہ ہمیشہ نتیجہ خیز اور مفید مطلب ہوتا ہے۔مذہبی دنیا میں بھی کئی طرح کے درویش صفت اور صوفی منش بزرگ پائے جاتے ہیں۔کچھ تو وہ ہیں جو مذہب کی طرف سے عائد کردہ عبادات کو ان کی ظاہری شکل میں بجالانے کے ساتھ ساتھ گہرے مطالب کی تلاش میں بھی کوشاں رہتے ہیں۔اور کچھ وہ ہیں جو اندرونی سچائی پر اتناز در دیتے ہیں کہ بسا اوقات عبادات سے بھی بکلی انکار کر دیتے ہیں۔لیکن وہ مذاہب جن کی بنیاد الہام پر ہے ان کے پیروکار بھی ہمیشہ اپنے مباحث میں الہامی صداقتوں تک ہی محدود نہیں رہا کرتے۔انجام کار ہر مذہب کے بعد کے دور میں ایسے مباحث بھی زیر بحث آنے لگتے ہیں جن کو یکسر مذہبی قرار دینا مشکل ہو جاتا ہے۔وہی صدیوں پرانے سوالات نئے سیاق و سباق میں از سر نو زندہ ہو جاتے ہیں۔مثلاً عقل کیا ہے؟ انسانی معاملات میں اس کا کیا کردار ہے؟ الہام کا عقل اور منطق سے کیا رشتہ ہے؟ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ بلا استثناء ہر مذہب کے دور انحطاط میں مختلف نظریات کا باہمی تعامل لازماً اس انتشار پر منتج ہوتا ہے جو مذہب کے ظہور سے پہلے موجود تھا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ انسانی دست برد کے نتیجہ میں مذہب بالآخر مختلف فرقوں میں تقسیم ہوتا رہا ہے اور اس طرح ایک حد تک قدیم اساطیری تصورات اور فلسفوں کی طرف لوٹ جاتا ہے۔اس صورت حال میں مذہبی شکست وریخت سے پیدا ہونے والے مختلف مکاتب فکر شاذ ہی اتحاد اور یکجہتی کا رستہ اختیار کرتے ہیں۔اور یوں لگتا ہے کہ انحطاط کے اس عمل کا رخ موڑ انہیں جاسکتا۔جن مذاہب کا آغاز خدا تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان کامل سے ہوتا ہے وہ بعد میں رفتہ رفتہ مشرکانہ گروہوں میں بٹ جاتے ہیں۔مذہبی نظریات میں ہم آہنگی پیدا کرنے اور خدا تعالیٰ کی