الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 3
تعارف : تاریخی تناظر میں دینی اور لادینی (سیکولر) نظریات کی تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ صدیوں سے بڑے بڑے فلاسفر، دانشور اور مذہبی رہنما عقل، منطق اور الہام کی تقابلی حیثیت کے بارہ میں مختلف خیالات کے حامل رہے ہیں۔اس لحاظ سے انہیں مختلف مکاتب فکر میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ایک طبقہ تو وہ ہے جو عقل کو اس حد تک اہمیت دیتا ہے کہ اس کے نزدیک صداقت تک پہنچنے کا یہی ایک واحد اور مستند طریق ہے۔ان لوگوں کے نزدیک صرف وہی نتیجہ تسلیم کئے جانے کے قابل ہے جو عقل کی کسوٹی پر پورا اترتا ہو۔لہذا ان کے مطابق صداقت کی جو بھی تعریف کی جائے ، اس تک رسائی صرف عقل اور استدلال کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔لیکن کچھ مفکرین وہ ہیں جو آسمانی ہدایت پر ایمان رکھتے ہیں۔ان کے نزدیک آسمانی ہدایت انسانی فکر کی صحیح رہنمائی کے سلسلہ میں بنیادی اور معین کردار ادا کرتی ہے اور بہت سے الجھے ہوئے اور حل طلب سوالات کے جواب فراہم کرتی ہے۔کچھ اور لوگ بھی ہیں جو یہ اعتقادر رکھتے ہیں کہ حقیقت کو باطنی تجربات کے ذریعہ صرف اپنی ذات میں ڈوب کر ہی تلاش کیا جا سکتا ہے جسے وجدان کہا جاتا ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ خود اپنے نفس کے گہرے مطالعہ کے ذریعہ حقیقت کو پایا جا سکتا ہے۔گویا اس کی چھاپ ہر انسانی روح پر نقش ہے۔یہ لوگ اپنے نفس کی گہرائی میں غوطہ زن ہو کر خود اپنی ذات کے مطالعہ سے قوانین قدرت کے بنیادی حقائق تک رسائی کی کوشش کرتے ہیں۔حقیقت تک پہنچنے کا ایک اور طریق تصوف ہے جسے مذہبی اور غیر مذہبی دونوں مکتبہ ہائے فکر نے اپنایا ہے۔زندگی کے اسرار و رموز کو صوفیانہ رنگ میں دیکھنے کا رجحان مذہب کے ماننے والے اور نہ ماننے والے دونوں گروہوں میں پایا جاتا ہے۔ایسے لوگ تمام مکاتب فکر میں پائے جاتے ہیں۔ان کا انداز فکر فلسفیانہ بھی ہو سکتا ہے اور مذہبی بھی۔لیکن اخفا اور اسراریت ان سب میں قدر مشترک کی حیثیت رکھتی ہے۔3