الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 281 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 281

274 عنطراپی اور محدود کائنات ایسی تمام صورتوں میں توانائی کا ایسا ضیاع نہیں ہوتا جو مستقل ہو۔نیز یہ ایسا ضیاع نہیں ہے جسے عطر اپی کہا جاسکے۔ہر کیمیائی عمل کے دوران توانائی یا تو خارج ہوتی ہے یا جذب ہوتی ہے مگر ان تمام صورتوں میں توانائی مستقل طور پر ضائع نہیں ہوتی لیکن عطر اپی کے ذریعہ ہونے والا ضیاع مستقل ہوتا ہے۔کیمیائی عوامل کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔سائنسی پیچیدگیوں میں الجھنے کی بجائے اگر آپ ایک ایسے گرم جسم کا تصور کریں جو رفتہ رفتہ ٹھنڈا ہو کر ماحول کے درجہ حرارت پر آجائے تو یوں ایک توازن پیدا ہو جائے گا۔جس جسم کی گرمی ٹھنڈے ماحول کی وجہ سے زائل ہو چکی ہو دوباره از خود گرم نہیں ہوسکتا کیونکہ گرمی کا بہاؤ ہمیشہ ٹھنڈک کی طرف ہوتا ہے۔انجام کار جب کائنات کی ساری حرارت آخر کار از خود ختم ہو جائے گی اور درجہ حرارت برابر ہو جانے سے ایک توازن پیدا ہو جائے گا تو نتیجہ کوئی کیمیائی عمل بھی جاری نہیں رہ سکے گا۔اسی کو سائنسدان heat death یا انزاع حرارت کہتے ہیں۔کائنات میں استعمال شدہ توانائی کی مقدار میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ قابل استعمال توانائی کی مقدار میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔گو بہت دیر کے بعد ہی سہی لیکن ایسا وقت آ سکتا ہے جب کائنات میں کسی قسم کا کوئی کیمیائی عمل ممکن نہ رہے گا اور کائنات کبھی اپنی پہلی حالت کو لوٹ نہ سکے گی۔نہ تو کوئی عمل ہورہا ہوگا اور نہ ہی کوئی رد عمل۔اس کو فنا یا عدم کہتے ہیں۔اس طرح سے ضائع ہونے والی توانائی کی مقدار اتنی معمولی ہے کہ اس کا اندازہ کرنے کیلئے سائنسدان بڑے پیچیدہ حسابی طریق اختیار کرتے ہیں۔ان کے خیال میں کائنات اپنی کمیت اور وزن دونوں کے اعتبار سے اب بھی عملاً اتنی ہی ہے جتنی کہ بیس ارب سال پہلے تھی۔اس وقت تک ضائع ہو جانے والی توانائی کو کائنات کے ambient temperature سے ماپا جاتا ہے جو اب تک صرف چار ڈگری کیلون ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ معلوم کا ئنات میں کوئی جگہ ایسی نہیں ہے جس کا درجہ حرارت چار ڈگری کیلون سے کم ہو۔پس جو توانائی اس کم سے کم درجہ حرارت کی طرف سفر کرے وہ وہیں رہتی ہے اور اسے دوبارہ کبھی بھی بلند درجہ حرارت میں تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ریاضی کا یہ مسئلہ کسی کو سمجھ آئے یا نہ مگر یہ بات یقینی ہے کہ کائنات میں توانائی کا کچھ ضیاع