الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 258 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 258

البینہ : ایک بین اصول القيمة : واکی تعلیم البينة ایک قرآنی اصطلاح ہے جو ایسی بین سچائی پر دلالت کرتی ہے جس کی چمک آنکھوں کو خیرہ کر دے گویا سورج طلوع ہو گیا ہو اور رات کے اندھیرے چھٹ گئے ہوں۔تمام انبیاء کو جن کے ساتھ روشنی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوتا ہے البینة عطا کی جاتی ہے۔اس کا تعلق صرف اسلام کے آغاز ہی سے نہیں ہے بلکہ تمام آسمانی مذاہب کے آغاز سے ہے۔ہر پیغمبر جو معاشرہ میں انقلاب برپا کر دیا کرتا ہے البینة کا مجسم ظہور ہوتا ہے اور اس کا پیش رو بھی۔فيهَا كُتب قيمة (البينه 4:98) ن ترجمہ: ان میں قائم رہنے والی اور قائم رکھنے والی تعلیمات تھیں۔القيمة: یہ ایک اور اصطلاح ہے جس سے مراد کسی نبی کی وہ تعلیمات ہیں جو تمام مذاہب میں مرکزی حیثیت رکھتی ہیں۔ان میں ایک ایسی سرمدی کیفیت ہے جو ہر تبدیلی سے منزہ ہے۔سورۃ البینہ کے مطابق تمام نبی بنیادی طور پر ایک ہی پیغام لے کر آتے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے اولین مرسل حضرت آدم علیہ السلام اور دیگر انبیاء مقام نبوت کے لحاظ سے برابر ہیں۔القیمۃ تمام مذاہب کو ایک لڑی میں پروئے رکھنے والے دھاگے کی حیثیت رکھتی ہے۔اس اعلان کے مطابق خدا تعالیٰ کے پہلے نبی حضرت آدم علیہ السلام اور آخری صاحب شریعت نبی صال الله حضرت اقدس محمد مصطفی عمل ہے، ہر دو کی بنیادی تعلیمات ایک ہی ہونی چاہئیں۔اس مشابہت کے باوجود ابتدائی مذاہب اور بعد کے ترقی یافتہ مذاہب کے مابین نمایاں فرق بھی ہوسکتا ہے۔بنیادی طور پر قریب تر ہونے کے باوجود تفاصیل میں نمایاں فرق ارتقائی عمل کی ایک پیچیدہ خصوصیت ہے۔مثلاً ممالیہ کی اصطلاح گرم خون والے تمام جانوروں کیلئے جو ریڑھ کی ہڈی جیسے اعضاء ر کھتے ہوں، 253