الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 259 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 259

254 البينة ، القيمة استعمال ہوتی ہے۔بھیڑیں انسانوں سے اور بلیاں بندروں سے بہت مختلف ہونے کے باوجود ممالیہ جانوروں کے ایک ہی گروہ سے تعلق رکھتی ہیں۔پس اسی طرح سے جوں جوں مذاہب ارتقا کی منازل طے کرتے جاتے ہیں وہ نئے ناموں سے پہچانے جاتے ہیں۔مگر بنیادی طور پر ان میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔القیمۃ انہیں آپس میں باندھے رکھتی ہے۔جیسا کہ بیان ہو چکا ہے البينة سے مراد محض نبی کی لائی ہوئی صداقت ہی نہیں بلکہ اس کا ذاتی کردار بھی ہے۔نبی کی صداقت اتنی ظاہر وباہر ہوتی ہے کہ جس معاشرہ میں وہ پلا بڑھا ہو وہ متفقہ طور پر اس کی سچائی کی گواہی دیتا ہے۔لیکن البینۃ میہیں تک محدود نہیں بلکہ جب نبی کی صداقت کی آسمانی نشانات مزید تائید کر دیتے ہیں تو معاشرہ کے پاس انکار کا کوئی جائز عذر باقی نہیں رہتا۔یہ امر کسی مرسل کے منجانب اللہ ہونے کا ایک ناقابل تردید ثبوت ہوتا ہے۔لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ یہی ثبوت بالآخر الٹا شدید مخالفت اور ایذا دہی کا باعث بن جاتا ہے۔مخالفت کی اس آگ کو بھڑکانے میں رجعت پسند اور متشدد مذہبی حلقے بطور خاص پیش پیش ہوتے ہیں۔وہ اس الہی فرستادہ کو اس لئے رد کر دیتے ہیں کہ انہیں ایک صبح نو کے آثار دکھائی دے رہے ہوتے ہیں جس کے غلبہ کی صورت میں بیخبر عوام پر ان کی بالا دستی ختم ہونے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے اور اس طرح ان کا پرانا اور فرسودہ مذہبی نظام ملیا میٹ ہوتا نظر آتا ہے۔یہ وہ ممکنہ خطرہ ہے جس سے انہیں بحیثیت مجموعی اپنی بقا خطرہ میں دکھائی دیتی ہے اور وہ اپنے تمام باہمی اختلافات کو بھول کر ایک متفقہ محاذ کھول لیتے ہیں۔نہ کسی قاعدہ کا احترام باقی رہتا ہے نہ ہی قانون کا۔جب ان کا بندروں کا سا شور و غوغا اور دھمکیاں کسی نبی کو مرعوب کرنے میں ناکام ہو جاتی ہیں تو بالآخر یہ لوگ مایوس ہو کر تشدد پر اتر آتے ہیں۔لیکن البینة کو شکست دینا ان کی مجموعی طاقت کے بس میں بھی نہیں ہوتا جس کی کامیابی کا انحصار اس کی اپنی باطنی سچائی پر ہی نہیں بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر خدا تعالی کی تائید و نصرت پر ہوا کرتا ہے۔اس طرح تقدیر کی مدد سے البینة زمان و مکان کی حدود کو پار کرتی ہوئی ہمیشہ ایک ارفع سچائی کے طور پر ظاہر ہوتی ہے۔البینة کے دائیں طرف زندگی ہے اور بائیں طرف تباہی۔البينة نہ تو مطلق سچائی کے بارہ میں اٹھائے جانے والے فلسفیانہ مباحث کی ذیل میں آتی