الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 200
196 آسٹریلیا کے قدیم باشندوں میں خدا کا تصور دوسرا نام ہو۔ایسا ہونا بھی چاہئے کیونکہ ان کو بدھ مت والوں کے برخلاف مراقبہ کے نتیجہ میں جواب کے طور پر خواب دکھائے جاتے ہیں۔خوابوں کے بارہ میں یہ قدیم باشندے بڑے کٹر اور نظم وضبط کے پابند ہوتے ہیں اور ان قواعد کی خلاف ورزی مستوجب سزا تصور کی جاتی ہے۔پس ان کو بے دین قرار دینا نا انصافی ہے۔جہاں تک ”جادو کے ذریعہ موت کے عقیدہ کا تعلق ہے اس سے وہ مراد نہیں جو عموماً دوسرے لوگ سمجھتے ہیں۔آسٹریلیا کے ان قدیم قبائل میں باقی دنیا کی طرح تماشا دکھانے والے جادو گر نہیں پائے جاتے۔ان کا ہرگز یہ عقیدہ نہیں ہے کہ ان کے ہاں ہر موت کسی بڑے شخص کے جادو ٹونے کا نتیجہ ہوتی ہے۔یہاں جادو سے مراد غالباً وہ شیطانی وساوس ہیں جو روحانی اصطلاح میں روشنی کے مقابل پر تاریکی کی علامت ہیں۔ان قبائل کی اصطلاح میں جادو کا مطلب صریحاً گناہ ہے۔حیرت ہے کہ ماہرین بشریات ( Anthropologists) اور ماہرین عمرانیات اتنی واضح بات کو سمجھنے سے کیوں قاصر رہے ہیں۔یہ لوگ موت کو جادو کا نتیجہ سمجھتے ہیں جو بلا استثنا ہر فانی وجود پر اثر انداز ہو رہا ہے۔صرف خدا کی ذات ہی اس سے مستثنیٰ ہے۔کوئی اور اس کی ابدیت میں شریک نہیں۔اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہر شخص کی موت صرف کسی جادوگر کے ٹونے ٹوٹکے سے ہوتی ہے۔موت ایک ایسی عالمگیر حقیقت ہے جس کا اطلاق دنیا کے تمام جانداروں پر یکساں ہوتا ہے۔آسٹریلیا بھی اس قاعدہ سے منتقلی نہیں۔آسٹریلیا کے قدیم باشندے اس حقیقت سے بخوبی واقف تھے۔انہیں کتنا ہی سادہ لوح کیوں نہ سمجھا جائے یہ احمقانہ خیال ان کی طرف منسوب نہیں کیا جا سکتا کہ ہر موت جادو ٹونے کا نتیجہ ہوتی ہے۔اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے جادو کے دو ہی معانی سمجھے جاسکتے ہیں۔اوّل اس سے مراد گناہ ہے جو روحانی موت کا بنیادی سبب ہے۔جیسا کہ دیگر الہامی مذاہب میں بھی یہی خیال پایا جاتا ہے۔اس صورت میں انہوں نے لازماً یہ نظریہ اسی سرچشمہ سے لیا ہے جس نے ایک ازلی ابدی خدا کے وجود کے بارہ میں اہل کتاب کی رہنمائی کی۔جادو کا دوسرا معنی جو عقلاً ان کی طرف منسوب کیا جا سکتا ہے یہ ہے کہ ہر وہ بات جس کا ان کے پاس کوئی جواب نہ ہو، جادو ہے۔اس سے ان کی مراد صرف کوئی پر اسرار چیز ہوتی تھی۔چنانچہ موت کی عالمگیر اور اہل حقیقت جو محدود اور غیر محدود