الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 201 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 201

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 197 اور خالق و مخلوق کے درمیان حد بندی کرتی ہے ان کیلئے ایک ایسا راز تھا جسے وہ جادو کا نام دیتے تھے۔تا ہم جادو کی اصطلاح صرف اسی مفہوم میں استعمال نہیں ہوتی تھی۔ویسے بھی روز مرہ کے تجربہ میں آنے والی ہر وہ چیز جس کی وجہ معلوم نہ ہو جادو ہی کہلاتی ہے۔اسی طرح زرتشتی مذہب میں روشنی اور اندھیرے کے مابین دائمی کشمکش کا جو ظاہری نقشہ کھینچا گیا ہے عین ممکن ہے کہ یہی فلسفہ آسٹریلیا کے قدیم باشندوں کی ان رسومات کے پس منظر میں بھی کارفرما ہو جنہیں تو ہمات کہا جاتا ہے۔جس طرح ظلمت، گناہ اور شیطان کی علامت ہے اسی طرح ہو سکتا ہے ان کا متحرک اشیا کے سائے سے گریز کا بھی یہی مفہوم ہو۔مگر ان کے خواب اور ان کی تعبیر کا توہمات سے دور کا بھی تعلق نہیں۔بلکہ یہ دوالگ الگ باتیں ہیں۔ان کے خواب خدا پر ایمان کا مرکزی نقطہ ہیں اور خدا سے رابطے کا ذریعہ ہیں۔ان کے نزدیک وہ ہمیشہ سے اس علیم وخبیر اور برتر ہستی کے نشانات دیکھتے رہے ہیں جو اپنی مخلوق کے ساتھ زندہ تعلق رکھتی ہے۔لہذا ان قبائل کا مغربی محققین سے شکوہ بجا ہے جو ان کے روحانی تجربات کو مذہب کا نام تک دینے کیلئے تیار نہیں کیونکہ وہ انہیں نہایت قدیم اور جاہل خیال کرتے ہیں۔وہ اس خوف کے پیش نظر قدیم آسٹریلوی باشندوں کے مذہب کی غلط تصویر پیش کرتے ہیں کہ اگر ان کی اصلیت ظاہر ہوگئی تو ان محققین کے نظریات غلط ثابت ہو جائیں گے۔ان آسٹریلوی قبائل کے ایک اعلی تعلیم یافتہ فرد سے مل کر میں بہت متاثر ہوا۔وہ عیسائیت قبول کر چکے تھے یا کم از کم اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے سے قبل ان کے متعلق یہی خیال کیا جاتا تھا کہ وہ عیسائی ہو گئے ہیں۔پیشہ کے اعتبار سے وہ انجینئر تھے۔گفتگو کے آغاز میں وہ قدیم باشندوں کے عقائد اور رسومات کے بارہ میں تبادلہ خیال سے ہچکچا رہے تھے۔حیرت کی بات تھی کہ عیسائی ہو جانے کے باوجود وہ دل کی گہرائیوں سے آسٹریلیا کے قدیم باشندے ہی تھے۔ان کو گفتگو پر آمادہ کرنے کے لئے مجھے بڑی کوشش کرنا پڑی۔تب کہیں جا کر انہیں میرے اس احساس اور اخلاص کا یقین آیا جو میں قدیم آسٹریلوی باشندوں کیلئے رکھتا تھا۔چنانچہ ان کی سرد مہری ختم ہوئی۔ان کی آنکھوں سے جھلکنے والا دکھ آسٹریلوی تہذیب کی قدیم تاریخ کی طرح گہرا تھا۔انہوں نے بتایا کہ بہت کم ایسا ہوا ہے کہ کسی غیر کی ان کے کسی معزز مذہبی رہنما تک رسائی ہوئی ہو۔اس لئے وہ سطحی