الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 183
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 179 کیونکہ کوئی مفتری ایسے ناممکن الحصول اہداف کیلئے کبھی ایسی استقامت نہیں دکھایا کرتا جو اس کی پہنچ سے باہر ہوں۔یہ لوگ بلا شبہ ہستی کباری تعالیٰ پر غیر متزلزل یقین رکھتے تھے ورنہ وہ تباہ و برباد ہو کر صفحہ ہستی سے مٹ جاتے۔اور اگر خدا تعالیٰ کا کوئی وجود نہیں ہے تو معاشرہ ایسے دعویداروں کو بڑی آسانی سے پاگل قرار دے کر رڈ کر دیتا۔اس کے علاوہ اور کوئی رستہ ہی نہیں تھا۔اگر یہ لوگ پاگل نہیں تھے تو پھر کس طرح اتنی مستقل مزاجی اور یقین کے ساتھ اپنے عقیدہ پر ڈٹے رہے اور ایک بے مصرف اور حقیقت سے دور مقصد کیلئے اپنا سب کچھ لٹا دیا؟ لیکن انہیں پاگل قرار دے کر بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کیونکہ پاگل ہمیشہ الٹی سیدھی باتیں کرتا ہے۔نبیوں کے بالمقابل تو معاشرہ ایسا شدید رد عمل دکھاتا ہے جیسے اس کے پاؤں تلے سے زمین پھٹ گئی ہو۔ان متشدد مخالفین کے اجتماعی غیظ و غضب کے مقابل پر انبیاء کو کسی امیر یا غریب، طاقتور یا کمزور انسان کی حمایت حاصل نہیں ہوئی۔ان کے پیغام کی عظمت، ان کے کردار کی شوکت اور انتہائی نا امیدی کے لمحات میں بھی ان کا اپنی فتح پر غیر متزلزل یقین ہمیشہ ان کی صداقت پر گواہ رہا ہے۔وہ عظیم قربانیاں پیش کرنے والے لوگ تھے نہ کہ ہوا و ہوس کے بندے۔انہوں نے اپنا سب کچھ اپنے تعظیم نصب امین کی راہ میں لٹا دیا۔وہ صرف خود ہی نہیں بلکہ ان کے ساتھ مسلسل شامل ہوتے چلے جانے والے بھی کسی رکاوٹ کو خاطر میں لائے بغیر عظیم قربانیوں کی اسی راہ پر گامزن رہے اور کسی کی انگشت نمائی کبھی ایسے لوگوں کے حوصلے پست نہیں کرسکی۔یہ نظریہ کہ جس کے مطابق خیالی خداؤں کا تصور انسانی جہالت کے باعث ہے، انسانی تاریخ کے بعض ادوار کے حوالہ سے جزوی طور پر درست بھی ہو سکتا ہے جبکہ انسان جاہل اور ذہنی طور پر نا پختہ تھا۔ہم اس سے انکار نہیں کرتے کہ ملاؤں کے ہاتھوں جاہل عوام کا استحصال ہوا ہے۔لیکن یہ ہرگز تسلیم نہیں کرتے کہ اس سے نظریاتی ارتقا کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جو بالآخر خدائے واحد کے عقیدہ پر منتج ہوا۔تاریخی حقائق اس بات کی تصدیق نہیں کرتے کہ توحید کا عقیدہ بت پرستی پر مبنی تو ہمات کے ارتقا کا نتیجہ ہے۔یہ محض ماہرین عمرانیات کا چھوڑا ہوا شوشہ ہے۔اس نظریہ کی تائید میں تاریخ سے کوئی ایسی شہادت نہیں ملتی کہ شرک تدریجا ترقی کر کے بالآخر توحید میں تبدیل ہو گیا ہو اور نہ ہی ایسی کوئی درمیانی کڑیاں ملتی ہیں کہ لوگوں نے دیوتاؤں کی پرستش کرتے کرتے