الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 184
180 + سیکولر نقطه هائے نظر کا تجزیه خدائے واحد کی عبادت شروع کر دی۔اس کے برعکس یہ ہوتا آیا ہے کہ ایک عظیم انسان اچانک اور یکلخت دنیا کے پردہ پر ابھرتا ہے جس کی وجہ سے مسلسل ایسے واقعات رونما ہونا شروع ہو جاتے ہیں جو بڑی بڑی انقلابی تبدیلیوں اور آزمائشوں کا باعث بنتے ہیں اور اس کے پیروکاروں کو عظیم الشان قربانیاں پیش کرنا پڑتی ہیں۔قرآن کریم اس نظریہ کو رڈ کرتا ہے اور اس کے بالکل برعکس نظریہ کو درست قرار دیتا ہے یعنی دنیا کے تمام بڑے بڑے مذاہب کا آغاز بلا استثناء توحید کے عقیدہ سے ہوا۔ارتقا کا مذکورہ بالا نظریہ نہ تو تاریخی شواہد سے ثابت ہوتا ہے اور نہ ہی انسانی ذہن کے تقاضوں کے مطابق ہے۔انبیاء کا کردار ایسی کھلی کتاب ہے جو مخفی عزائم اور خفیہ منصوبوں کے الزامات کو یکسر رد کرتی ہے۔دعوی نبوت سے پہلے کی زندگی کا کوئی بھی دور اس الزام کو ثابت نہیں کر سکتا کہ انہوں نے نبوت کے جھوٹے دعوی کیلئے پہلے سے منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔تو حید کے عظیم علمبرداروں مثلاً حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت موسی علیہ السلام اور حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگیوں میں اس امکان کا شائبہ تک نہیں پایا جاتا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ظہور کے وقت تک حضرت نوح علیہ السلام کا عقیدہ توحید بعد کی نسلوں میں زوال پذیر ہو کر متعدد خداؤں کی سفلی حکایات کی شکل اختیار کر چکا تھا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے توحید کے قیام کیلئے دوبارہ ایک عظیم جدو جہد کا آغاز کیا جو بالآخر کامیاب ہوئی اور توحید کی مشعل آپ کی اولا داور آپ کے پیروکاروں نے کئی نسلوں تک روشن کئے رکھی۔بالآخر انحطاط کا وہی پرانا عمل اپنے سابقہ تباہ کن نتائج کے ساتھ پھر سے شروع ہو گیا۔چنانچہ حضرت ابراہیم کے چند سو سال بعد ہی بنی اسرائیل بت پرستی کی بدعادت کی طرف لوٹ گئے۔یہ سلسلہ حضرت موسی کے زمانہ تک جاری رہا۔اگر چہ انبیاء علیہم السلام میں سے حضرت موسی کو بطور تو حید کے علمبردار کے بہت بلند مقام حاصل ہے تاہم بعد میں آنے والی صدیوں میں بت پرستی ان کے متبعین کے ایمان میں سرایت کرتی رہی اور اسے آلودہ کرتی رہی۔اس سے ایک بار پھر قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ توحید سے برگشتگی کا لازمی نتیجہ تنزل ہے۔اگر انسان کو اس کے