الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 171 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 171

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 167 ہوئے جنگلی گھوڑوں سے بہتر قرار نہیں دے سکتے۔نہ ہی وہ یہ سمجھ سکتے ہیں کہ وہ ان سے گھٹیا اور کم تر درجہ رکھتے ہیں۔ہر دو انواع کے مختلف جہان ہیں مختلف صلاحیتیں، مختلف ضروریات اور مختلف خواہشات ہیں بشرطیکہ کیڑے بھی خواہشات رکھتے ہوں۔تا ہم یہ عدم توازن کسی نا انصافی پر دلالت نہیں کرتا۔مثال کے طور پر چند ایسے ہٹے کٹے کیڑوں کا تصور کیجئے جو بظاہر اپنے ماحول سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہوں اور اپنی موجودہ صلاحیتوں پر قانع ہوں اور نہ ہی اپنے محسوسات سے ہٹ کر کوئی خواہش کر سکتے ہوں۔اس کے باوجود اگر اذیت میں مبتلا بچے کو کسی کیڑے کی خوشحال زندگی سے بدلنے کی پیشکش کی جائے تو کیا وہ اس پر موت کو ترجیح نہیں دے گا ؟ محض انسانی زندگی اور اس زندگی کی ان اعلیٰ حالتوں کا شعور جن سے اسے نوازا گیا ہے، ہی بالعموم اذیت کے احساس کو کم کرنے کے لئے کافی ہوتا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اذیت بہر حال ایک نسبتی حالت ہے۔اذیت کی بنیادی وجہ احساس محرومی ہے۔جب معروف اور پسندیدہ اقدار کو نقصان پہنچتا ہے تو اذیت کا شعور جنم لیتا ہے۔یه صرف اسی وقت ممکن ہے جب انسان ان اقدار کی لذت کا مزہ چکھ چکا ہو یا دوسروں کو ان سے لطف اندوز ہوتے دیکھ چکا ہو۔چنانچہ ان اقدار میں کمی جن سے کبھی وہ خود لطف اندوز ہو چکا ہو یا اوروں کو ان قدروں سے لطف اندوز ہوتا دیکھے لیکن خود اس لذت سے محروم ہو، یہ دونوں ایسے مضبوط عوامل ہیں جو اذیت کا باعث ہوا کرتے ہیں۔البتہ ان اقدار کی عدم موجودگی اذیت کا باعث نہیں بن سکتی جن کا انسان کو علم ہی نہ ہو۔لہذا اگر اذیت محض کسی محرومی کی علامت نہیں تو اور کیا ہے؟ اس حقیقت کے باوجود کہ اذیت کا ذمہ دار خاص صدمات کو ہی قرار نہیں دیا جا سکتا، گہرے مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اذیت کا ہر احساس در اصل کسی محرومی کے احساس ہی سے پیدا ہوتا ہے۔حواس کی تخلیق اور ارتقا، سودوزیاں، لذت اور اذیت کی اس لمبی اور نہ ختم ہونے والی کشمکش ہی کا نتیجہ ہے۔یہ دونوں وہ موثر ترین محلی تخلیقی عوامل ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے ہمارے حواس خمسہ انہی عوامل کی باہمی کشمکش کا نتیجہ ہیں جو لاکھوں سالوں پر محیط ارتقا کے عمل کے دوران بتدریج معرض وجود میں آگئے۔راحت اور اذیت بذات خود