الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 172 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 172

168 دکھ اور الم کا مسئله نظام شعور کی تخلیق کا باعث نہیں ہیں۔تکلیف اور خوشی از خود اعصابی نظام تخلیق نہیں کر سکتے۔اور اس شعوری نظام کی عدم موجودگی میں کسی راحت و اذیت کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ہوتا۔عدم سے وجود کیونکر ممکن ہے؟ عدم شعور اربوں کھربوں سالوں میں بھی شعور کی نہ تو تخلیق کر سکتا ہے اور نہ ہی اس کی تشکیل۔اس کے لئے ایک باشعور خالق کی ضرورت ہے جو موت کو شعور عطا کرے اور اس سے زندگی پیدا کرے۔یوں لگتا ہے جیسے خالق کل نے ایک ایسے طریق پر جواب تک ایک سربستہ راز ہے لذت اور اذیت کو ان اعضاء کی تخلیق کے لئے استعمال کیا ہے جو لذت و اذیت کو محسوس کرتے ہیں۔اس حیرت انگیز شاہکار کی تخلیق میں اذیت کے کردار کو ختم کر دینے سے زندگی اپنے آپ سے محض ایک بیگانہ اور بے حس نباتاتی مواد کی صورت میں رہ جائے گی۔شعور کی اس حیرت انگیز صلاحیت کے مقابل پر اذیت اور محرومی کی محدود اور استثنائی مثالیں کیا کوئی مہنگا سودا ہے؟ یادر کھیں کہ اسلام کے نزدیک بدی ایک ایسا سایہ ہے جو روشنی کی عدم موجودگی سے پیدا ہوتا ہے۔بذات خود اس کا کوئی مثبت وجود نہیں۔روشنی کے ماخذ کا تصور تو کیا جا سکتا ہے مثلاً لیمپ یا سورج نگر تاریکی کے ماخذ کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔کوئی چیز اند ھیرے کا ماخذ اس وقت بنتی ہے جب اس میں روشنی کو روکنے کی صلاحیت پیدا ہو جائے۔اسی طرح یہ نیکی کی عدم موجودگی ہی ہے جو بدی کہلاتی ہے اور بدی کے مختلف مدارج کا انحصار نیکی روکنے والے واسطے کی کثافت پر ہے۔کسی چیز کو حاصل کر لینے کا شعور ہی لذت کہلاتا ہے اور اس چیز کا نقصان یا کھو دینے کا اندیشہ درد یا اذیت کہلائے گا۔لیکن یہ ضروری ہے کہ یہ دونوں دو انتہاؤں کے طور پر بیک وقت موجود ر ہیں۔یعنی ایک کو ختم کرنے سے دوسرا خود بخود ختم ہو جائے گا۔نتیجہ کوئی شخص بھی اذیت اور لذت، نیکی اور بدی کے اس تخلیقی نظام میں نہ تو دخل اندازی کر سکتا ہے اور نہ ہی اسے تبدیل کرنے پر قادر ہے۔یہ انسانی ہمدردی کے بس سے باہر ہے کہ وہ زندگی کوختم کئے بغیر اذیت کوختم کر سکے۔