الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 115 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 115

بدھ مت بدھ مت کے متعلق دنیا میں عام تاثر یہ ہے کہ اسے مذاہب میں سے تو شمار کیا جاتا ہے لیکن بائیں ہمہ اس کے فلسفہ حیات میں خدا کے وجود کو تسلیم نہیں کیا جاتا۔یہ تاثر درست تو ہے لیکن ایک حد تک اور وہ بھی جزوا۔آج بھی بدھ مت کے ماننے والوں کے بارہ میں یہ کہنا غلط ہوگا کہ ان میں سے کوئی بھی خدا تعالیٰ پر یا دیوتاؤں پر یقین نہیں رکھتا۔مہایان (Mahayans) اور تھیراویڈن (Theravadins) جیسے نمایاں فرقے باطنی حکمتِ اعلیٰ پر یقین رکھتے ہیں جو مہاتما بدھ کو کامل طور پر حاصل تھی۔مگر اس کے باوجود وہ بہت سے تو ہمات اور بھوت پر بیت کے قائل بھی ہیں جو ان کے نزدیک خدا کے قائم مقام ہیں۔بدھ مت کے بارہ میں خدا کے وجود کی نفی کا یہ تاثر ایک اور پہلو سے بھی غلط ہے۔بدھ مت کی ابتدائی تاریخ کے مطالعہ سے اس امر کی کافی حضرت بدھہ: آپ کے ملنے والوں کے نزدیک شہادت ملتی ہے اور ہم آگے چل کر اس بات کو ثابت کریں گے کہ بدھ مذہب کا آغاز بھی دوسرے الہامی مذاہب کی طرح ہوا اور خدا کی وحدانیت پر زور دیا گیا۔مہاتما بدھ 563 قبل مسیح میں پیدا ہوئے اور 483 قبل مسیح میں وفات پائی۔ان کے ماننے والے ان کو خدا تعالیٰ کا مقام تو نہیں دیتے لیکن جس رنگ میں ان کا احترام کیا جاتا ہے وہ تقریباً ایسا ہی ہے جیسا دوسرے مذاہب کے ماننے والے خدا تعالیٰ کا احترام اور اس کی پرستش کرتے ہیں۔مہاتما بدھ کے پیروکار ان کا احترام اور تعظیم اسی طرح کرتے ہیں جیسے بت پرست بتوں کی اور بدھ کی مورتی اور مجسمہ کے سامنے اسی طرح جھکتے اور سجدہ ریز ہوتے ہیں جیسے بت پرست۔اگر چہ بدھ مت کے اکثر پیروکار بظاہر بستی باری تعالیٰ کا انکار کرتے ہیں لیکن ان کے دل کی گہرائیوں میں کسی بالا ہستی کی عبادت کی خواہش ضرور موجود نظر آتی ہے۔مہاتما بدھ کی اس قسم کی تعظیم یہ ثابت کرتی ہے کہ ایسی خواہش واقعی موجود ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی عبادت 115