الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 112 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 112

112 هندو مت پھر یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ رشی اور ان کے حواری کسی دوسرے سیارہ سے زمین پر اترے ہوں گے۔مگر یہ حل جسے بفرض محال حل کہنے کی جسارت کی بھی جا سکے تو ایک اور انتہائی پیچیدہ اور ٹیڑھے مسئلہ کو جنم دے گا جسے پھر حل کرنا پڑے گا اور کرموں کی کہانی چار رشیوں سے نہیں بلکہ اربوں سال قبل پیدا ہونے والے جراثیم کی ہر دم بدلتی اور مسلسل ترقی پذیر شکلوں سے شروع کرنا پڑے گی۔غیر جانبدارانہ جائزہ سے واضح ہو جاتا ہے کہ جونوں اور کرموں کا یہ عقیدہ ہندو فلسفہ کے بگڑے ہوئے دور کی پیداوار ہے۔یہ اس وقت ہوا جب ہندو مذہب کے علماء نے جزا سزا اور حیات و ممات کے عقدہ کا جواب، آسمانی روشنی کے بغیر محض فلسفیانہ طریق سے از خود ڈھونڈنا چاہا۔بایں ہمہ اگر کوشش کی جائے تو آج بھی ویدوں میں الہام الہی کے آثار مل سکتے ہیں۔ویدوں میں آج جہالت کے جو نمونے نظر آتے ہیں یقیناً انسانی دست بردکا نتیجہ ہیں۔اس بحث کو ختم کرنے سے پہلے ہم یوگا کی حقیقت پر غور کریں گے اور ہند و فلسفہ کے وسیع اور پیچیدہ نظام میں اس کی حیثیت کا جائزہ لیں گے۔یہ مسئلہ اصل موضوع بحث سے خاص تعلق رکھتا ہے کیونکہ عام طور پر یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ گہری ریاضت سے ایک یوگی علم اور سچائی کے سرچشمہ کو اپنی ذات ہی میں دریافت کر لیتا ہے۔تاہم یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ یوگا کا تعلق بنیادی طور پر ہندومت سے ہے یا بدھ مت سے۔یہ گیان کا ایک ایسا طریق ہے جس کے متعلق یہ شواہد نہیں ملتے کہ اسے حضرت کرشن علیہ السلام نے کبھی اختیار کیا ہو۔لیکن یوگا کی بات یہیں پر ختم نہیں ہو جاتی۔مراقبہ کے ساتھ ساتھ یوگا بدنی سائنس کی بھی ایک انتہائی ترقی یافتہ شکل ہے جس کے ذریعہ انسان کی خوابیدہ جسمانی صلاحیتوں کو نقطۂ عروج تک پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔کہا جاتا ہے کہ یوگا کے ذریعہ بڑے بڑے معجزانہ کام سرانجام پاسکتے ہیں۔بلکہ یہاں تک بھی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس کے ذریعہ انسان سرما خوابی کی ایسی ساکت حالت تک پہنچ جاتا ہے جس میں جسمانی شکست وریخت کا عمل تقریبا رک جاتا ہے اور زندگی ایک باریک ترین دھاگے سے متعلق نظر آتی ہے۔اس فن میں کمال رکھنے والے بعض یوگیوں کے بارہ میں کہا جاتا ہے کہ وہ کئی دن تک زیر آب زندہ رہے۔ان کی ایک مافوق الفطرت صلاحیت یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ وہ ایک جگہ