الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 67
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 67 مظاہر کی کنہ تک پہنچنے کیلئے کی جاتی ہے۔اس طرح جو حقائق حاصل ہوتے ہیں انہیں دماغ میں صحیح طور پر ترتیب دینے سے انسان سچائی تک پہنچ سکتا ہے۔افلاطون کہتا ہے: چونکہ انسانی فطرت میں آسمانی ہدایت کی کسی قدر چنگاری موجود ہے اس لئے اگر انسان چاہے تو عقل کے ذریعہ مناسب جستجو کے بعد عالم غیب کے حقائق کا مشاہدہ کر سکتا ہے اور پھر ان کی روشنی میں معلوم کر سکتا ہے کہ سچ کیا ہے اور انسان کا کردار کیا ہونا چاہئے۔اس منزل تک رسائی کوئی آسان کام نہیں۔اس کیلئے بہت زیادہ غور وفکر کی ضرورت ہے۔ایسا غور وفکر جس میں بہت سے مفروضے غلط ثابت ہو سکتے ہیں۔صرف یہی نہیں بلکہ دنیا کی ہر اس چیز کو ہوگا باوجود چھوڑنا ہو گا جو محض حیوانی اور جسمانی خواہشات سے متعلق ہو۔اس کے باوجو دضروری نہیں کہ ہر شخص اس منزل کو حاصل کر لے بلکہ یہی کہا جائے گا کہ اصولاً اس منزل کا حصول ممکن ہے اور اس منزل تک وہی پہنچتا ہے جو اپنے وجود کا بہترین حصہ اس راہ میں خرچ کرتا ہے جو اس کے ہے۔لئے کھلی ہے۔پس افلاطون کے نزدیک علم محض مشاہدہ اور عقل کی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر حاصل کیا جاسکتا ہے۔ہاں، کبھی کبھی وجدان اور تخلیقی تحریک بھی حصول علم میں مدد کرتی ہے۔اس طرح جو علم حاصل ہوتا ہے اس کا نام صداقت ہے۔خلاصہ کلام یہ کہ افلاطون کا یہ نظریہ تھا کہ ظاہری عالم محض ایک سراب ہے۔پس پردہ جو صداقت پوشیدہ ہے وہ ہمارے ظاہری مشاہدہ سے بہت مختلف ہوسکتی ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم خواہ کتنی ہی کوشش کر لیں کسی خارجی حقیقت کی کنہ کو مکمل طور پر نہیں پاسکتے کیونکہ تمام خارجی حقائق اور اشیاء مسلسل تبدیلی کے عمل سے گزر رہے ہیں۔اس لئے ایک وقت کا مشاہدہ دوسرے وقت کے مشاہدہ سے مختلف ہو سکتا ہے۔افلاطون کے نزدیک تصور عالم امثال (Ideal) کی ایک حقیقت ہے۔جسمانی حواس پر مبنی ہمارا اور اک مثال کے صرف قریب قریب پہنچتا ہے۔تصور جیومیٹری کی ایک مثالی تکون کی طرح ہے جو خشکی و تری میں کہیں موجود نہیں ہے، اگر چہ تمام حقیقی سکونہیں کم و بیش اس مثالی تکون کو ظاہر کرتی ہیں۔افلاطون کے خیال میں تصور مادی اشیاء سے زیادہ حقیقی ہے۔مادی اشیاء تو اس کا پر تو ہیں۔اس کے نزدیک ایک فلسفی کو چاہئے کہ وہ ان ان دیکھے حقائق میں