الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 56 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 56

56 فلسفة یورپ کے منفی ہونے کی صورت میں مافیا جنم لیتے ہیں۔اس قسم کے مافیا گروہوں کے مقابلہ میں پرولتاریوں کی تمام قوتیں مل کر بھی کوئی کامیابی حاصل نہیں کر سکتیں۔جب اس قسم کے مافیا ایک دفعہ پیدا ہو جائیں تو پھر ان کی تعداد مسلسل بڑھتی ہی چلی جاتی ہے اور ہر شعبہ زندگی میں ان کا عمل دخل ہو جاتا ہے۔رفتہ رفتہ یہ بہت طاقتور ہو جاتے ہیں اور ہر کس و ناکس سے اپنی شرائط منوا لیتے ہیں۔مالیات، تجارت، سیاست، تفریح، صحت، بیماری، سیروسیاحت کی بہترین سہولیات، کمپیوٹر، برقی آلات الغرض ہر شعبہ زندگی میں مافیا کے ان گروہوں کے منحوس سائے پھیلتے چلے جاتے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ اچھی ہو یا بری، یہ ذہنی قوت ہی ہے جو بالآخر دنیا کی حکمران ہے۔جدلی مادیت کا نظام انسانی تقدیر کی تشکیل میں کوئی اہم کردار ادا نہیں کرتا۔افسوس تو اس امر کا ہے کہ وہ ذہن جو عالمی معاملات پر کنٹرول اور تسلط کے لئے پیدا ہوا ہے بذات خود بھی بُرا ہے۔اور یہ صورت حال ہستی باری تعالیٰ کے انکار کے لابدی نتیجہ کے طور پر پیدا ہوتی ہے۔انسانی معاملات میں سے اخلاقیات کا اخراج صرف مارکسزم ہی کی امتیازی خصوصیت نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ کمیونسٹ جس کام کو علی الاعلان کرتے ہیں سرمایہ دار اسی کام کو انتہائی منافقت اور مکاری کے ساتھ سرانجام دیتے ہیں۔سرمایہ دارانہ سیاست ، تجارت اور اقتصادیات، اخلاقیات سے اتنی ہی عاری ہے جتنی کمیونسٹوں کی۔نتیجہ دونوں کے دونوں اس جرم میں برابر کے شریک ٹھہرتے ہیں۔اشترا کی ریاستوں میں بھی محنت کش طبقہ کیلئے اپنا استحصال کرنے والوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا امکان اتنا ہی کم ہے جتنا کہ سرمایہ دارانہ نظام میں۔اگر کمزور اور تہی دست عوام اپنے حکمرانوں کا راستہ کاٹنے کی کوشش کریں تو سرمایہ دارانہ نظام میں بھی شر پسند قوتوں سے جنم لینے والے مافیا گروپ اسی قدر ہیبت ناک ثابت ہوتے ہیں جس قدر اشتراکی نظام کے مافیا گروپ۔ہماری توجہ کا مرکز بھی اب یہی امر ہونا چاہئے۔یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ کل کے لیے ہوئے تہی دست عوام کو جب حکومت مل جاتی ہے تو اقتدار ملتے ہی انہیں اپنے ماضی کے مصائب و آلام کیوں اچانک بھول جاتے ہیں اور وہ انتہائی سنگدلی سے اپنے آہنی ہاتھوں کے ساتھ عوام کی تقدیر کا فیصلہ کرنے لگتے ہیں۔بات یہ ہے کہ نہ تو کوئی اخلاقی