الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 52 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 52

52 فلسفة یورپ لئے سرے سے کوئی جگہ ہی نہ ہولیکن اخلاقیات سے عاری اس نظام کو چلانے کیلئے دوسروں سے مکمل وفاداری کی توقع بھی رکھے تو وہ ایک عجیب مخمصہ کا شکار ہو جائے گا۔بورژوا طبقہ کے استبداد کا جوا اتار چھیننے کیلئے پرولتاریوں کی مدد کے لئے مارکس کی سوچی بھی سکیم میں ایک اور تضاد بھی ہے۔اگر یہ فلسفہ درست ہے تو اسے خواہ آپ سائی خنک سوشلزم کہیں یا جدلیاتی مادیت پسندی کا نام دیں، اس کے نفاذ اور اسے صحیح خطوط پر چلانے کیلئے کسی خارجی انسانی مدد کی ضرورت ہی نہیں ہونی چاہئے جو اسے قدم قدم پر سہارا دے اور اس کے رخ کو متعین کرے۔ایک اور اہم پہلو بھی مد نظر رکھنا چاہئے کہ مارکس کا جدلیاتی مادیت پسندی کا نظریہ بدیہی طور پر ڈارون کی عظیم کتاب The Origin of Species سے واضح طور پر متاثر ہوا ہے۔گہرائی میں جا کر دیکھیں تو در حقیقت جدلیاتی مادیت پسندی انسانی عمرانیات کے پس منظر میں ڈارون کے نظریہ تنازع للبقاء ہی کا دوسرا نام ہے۔خوراک کی رسد اور بقا کے ذرائع آج بھی انسانی زندگی کیلئے اسی طرح ضروری ہیں جس طرح انسان سے قبل عالم حیوانات کے لئے ہمیشہ سے ضروری رہے ہیں۔"بقائے اصلح" کا اصول ہمیشہ کی طرح آج بھی سرگرمی سے کارفرما ہے۔اس قانون کو اپنانے کے سوازندگی کے پاس اب نہ تو کوئی متبادل راستہ ہے اور نہ ہی کوئی اختیار۔یہ ایک سائنسی حقیقت ہے۔اگر مارکسی فلسفہ میں صحت اور حتمیت کا مذکورہ قانون موجود نہیں تو اسے سائینٹفک نہیں کہا جا سکتا۔یوں جدلی مادیت ایک طبعی اور لازمی اصول کے طور پر اپنی حیثیت کھو بیٹھے گی۔اب دیکھتے ہیں کہ جدلی مادیت کا نظام ڈارون کے نظریہ ارتقا سے کس قدر مختلف ہے۔ڈارون کا نظریہ ارتقاراہ حیات کی تعیین و تشکیل میں ہر دوسرے نظریہ پر تفوق رکھتا ہے۔اسے اپنی مدد کے لئے نہ تو کسی نظریاتی تحریک کی حاجت ہوتی ہے اور نہ ہی کسی خارجی تائید کی ضرورت۔اس کے برعکس اس میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ اپنا راستہ روکنے والی ہر خارجی قوت کو ناکام بنادے۔اگر ڈارون پیدا نہ ہوا ہوتا اور اگر کوئی بھی شخص ارتقا کے راز سے پردہ نہ اٹھاتا تو بھی ارتقا کا قانون غیر مبدل رہتا اور ڈارون کی موجودگی یا عدم موجودگی کا اس لابدی حقیقت پر سر موفرق نہ پڑتا۔قوانین فطرت کی تنفیذ انسانی اور اک کی محتاج نہیں ہوا کرتی۔ان قوانین کا وجود فہم انسانی