الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 649
618 حضرت عيسى عليه السلام اور ختم نبوت اور اس موت کا مزہ وہ روز چکھتے ہیں جسے وہ زندگی کا نام دیتے ہیں۔کہاں ہیں اسلامی اقدار کے پاسدار اور کہاں ہیں تہذیب کے علمبردار؟ کیا ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا ہے جو ان تلخ حقائق کو دیکھ کر اپنے آرام اور سکون کا ایک لمحہ بھی قربان کر سکے؟ آخر ان کے نزدیک اس صورت حال کی اہمیت ہی کیا ہے، اور اگر ہو بھی تو ملاں کی بلا سے! ایسے معاشرہ میں اس سے کیا فرق پڑسکتا ہے جسے یہ یقین دلا دیا گیا ہو کہ خدائی تقدیر بالآخر ضرور ظاہر ہوگی اور حضرت عیسی بن مریم علیہ السلام اپنی آسمانی قرارگاہ سے زمین پر نازل ہو کر مسلمانوں کو حکومت و اقتدار کے اعلیٰ ایوانوں تک پہنچا دیں گے اور مسلمان ہی اس وقت سیاہ وسفید کے مالک ہوں گے۔اس طرح ملاں مسلم عوام کو اس وقت تک لوریاں دے کر سلاتے رہیں گے جب تک مغرب کی عیسائی دنیا کا خدا ان سے منہ موڑ کر پوری شان سے مشرق کے مسلمانوں کا آقا بن کر جلوہ گر نہ ہو جائے۔ملاں کو کیا پڑی ہے کہ اپنے مریدوں کے ریوڑ کے اخلاقی دیوالیہ پن کی فکر کرے، ان کی اصلاح کی کوشش کرے اور ان کی بیمار اور مایوس اخلاقی حالت کے علاج کی بے سود کوشش کرتا پھرے۔بس صبر اور انتظار ہی اس کا واحد علاج ہے۔پس اس گھڑی کا انتظار کرتے رہو۔اور اگر بغرض محال یہ تقدیر پوری ہو جائے تو وہ لمحہ کتنا خوف ناک ہو گا ! خدا کی پناہ اس سے بڑھ کر اور کیا بد بختی ہوسکتی ہے کہ مخلوق خداملاں کے زیر تسلط آجائے۔کیا حضرت عیسی نعوذ باللہ اتنا گر سکتے ہیں۔ہر گز نہیں۔اور کیا وہ ایسے صریح جرم میں کبھی شریک ہو سکتے ہیں؟ نہیں۔ہرگز نہیں۔عیسی علیہ السلام ہوں یا خدا کا کوئی اور نبی، وہ کبھی اس حد تک نہیں گر سکتا کہ ایسے بدکردار لوگوں کی حمایت میں بھی کھڑا ہو جائے۔یہ کام تو اقتدار کے بھوکے اور لوگوں کے سفلی جذبات سے کھیلنے والے ان سیاستدانوں کو ہی زیب دیتا ہے جنہیں درندہ صفت انسان تو کیا، درندوں کا حاکم بننے میں بھی تامل نہیں ہوا کرتا۔ایسے شخص کو خواہ حضرت عیسی علیہ السلام کی مدد حاصل ہو یا نہ ہو، اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کے لئے وہ اپنے زعم۔میں مقدس نبیوں کے کندھوں پر سوار ہو کر بھی اپنا مطلب نکالنے سے نہیں ہچکچاتا۔ملاں کے خواب تو پاگلوں کی حرکات سے بھی زیادہ احمقانہ ہوتے ہیں لیکن کیا یہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر ہو سکتے ہیں۔ایسے خواب کبھی بھی تاریکی کو روشنی میں تبدیل نہیں کر سکتے اور نہ ہی کبھی ان سے کوئی نیا دن طلوع ہو سکتا ہے۔یہ نئی سحر ہی ہے جو اس قسم کے خوابوں کا تارو پود بکھیر دیا کرتی