الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 39 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 39

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 39 طرز استدلال کو فلسفہ میں متعارف کرایا۔اس کے نزدیک مطلق سچائی کا تصور نفس کے مشاہدہ سے شروع ہوتا ہے۔اس کے سچائی کے معیار کا تعلق اس پہلے نقش سے ہے جو کسی چیز کے بارہ میں سننے یا اسے دیکھنے کے بعد ذہن میں ابھرتا ہے۔اس کا دعویٰ تھا کہ کوئی بھی ایسی بات جو سچائی کے اس معیار پر فوراً پوری نہیں اترتی یقیناً مشکوک ٹھہرے گی۔بالفاظ دیگر ہر وہ امر جسے بغیر دلیل کے حقیقت تسلیم کیا جاسکے ایک بدیہی حقیقت کہلائے گا۔وہ اس منطق کا اطلاق اپنے شعور ذات پر کس طرح کرتا ہے اسے آسان لفظوں میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے۔چونکہ میں سوچ رہا ہوں اس لئے میں ہوں۔میں اس سادہ حقیقت کو بغیر کسی منطقی دلیل کے قبول کرتا ہوں پس یقیناً میں ہوں۔چنانچہ یہ نتیجہ اولین اور خالصہ بدیہی صداقت کی صورت میں ہمارے سامنے آتا ہے۔اس دلیل کو بیان کرنے کے لئے اس نے ایک سادہ اور دلکش فقرہ استعمال کیا "sum یعنی ” میں سوچ رہا ہوں اس لئے میں ہوں“۔5 "cogito ergo اس پہلی سچائی کے بعد دوسری سچائی جس تک وہ پہنچا ہستی باری تعالیٰ کی سچائی تھی۔اس نے ریاضی کے ذریعہ ثابت کیا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کا تصور ہی اس بات کی کافی دلیل ہے کہ وہ موجود ہے۔جیسے مثلث کے تین زاویے یقینی طور پر دو قائمہ زاویوں کے مجموعہ کے برابر ہوتے ہیں۔قطع نظر اس کے کہ خدا تعالیٰ کی ہستی کے بارہ میں اس کا فلسفیانہ ثبوت بعد میں آنے والے فلسفیوں کیلئے قابل قبول تھا یا نہیں، ایک بات بہر حال یقینی ہے کہ وہ اس سے غیر معمولی طور پر متاثر ضرور ہوئے۔یوں بعد میں آنے والے دانشوروں نے خدا تعالی کی ہستی پر ایمان کی تائید یا مخالفت میں منطق کو خوب استعمال کیا۔اسی رجحان کے نتیجہ میں جدلی مادیت کے فلسفہ نے جنم لیا۔اس قسم کی سوچ سنہ وچ سترھویں صدی میں بھی جاری رہی جب جان لاک (John Locke)، برکلے (Berkeley) اور ہیوم (Hume) نے دعویٰ کیا کہ Phenomenon Phen یعنی واقعات محسوسه اور عقل کی حدود کا ایمان اور یقین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔اس فلسفہ کو بیان کرتے ہوئے لاک نے ایمان اور یقین کو کلی رد نہیں کیا بلکہ اسے صرف ایمان لانے والوں پر چھوڑ دیا کہ وہ جو راستہ چاہیں اختیار کریں۔یہ بات بعد میں آنے والے یورپی فلسفیوں کے حصہ میں آئی کہ وہ عقلی