الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 632
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 601 بیہودہ کوشش بلا مقصد نہیں۔اس کے نزدیک تو یہ ایک ایسا اعلیٰ منصوبہ ہے جس میں بہت سے فوائد مضمر ہیں۔یہ نظریہ حضرت عیسی علیہ السلام کو صلیب کی لعنتی موت سے بچا کر دشمنوں کی طرف سے آپ کو جھوٹا ثابت کرنے کی کوششوں پر پانی پھیر دیتا ہے۔اس موقع پر ذرا یہودیوں کی جھنجھلاہٹ کا تصور کیجئے جبکہ انہیں پتہ چلا ہو گا کہ حضرت عیسی علیہ السلام ان کے چنگل سے نکل کر اچانک ہوا میں غائب ہو گئے ہیں (بشر طیکہ چوتھے آسمان پر ، جہاں وہ گئے ہیں، ہوا کا کوئی وجود بھی ہو)۔لیکن اس سے خدا تعالیٰ کیلئے ایک اور چھوٹا سا مسئلہ ضرور کھڑا ہو گیا ہو گا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو کب اور کیوں زمین پر واپس لایا جائے گا۔انہیں قیامت تک اس آسمانی قرارگاہ میں کسی صورت بھی تنہا تو نہیں چھوڑا جا سکتا تھا۔خدا تعالیٰ کے نزدیک تو کوئی مسئلہ نہیں ہے البتہ ملاں کا یہ خود ساختہ مسئلہ اس لئے پیدا ہوتا ہے کہ اس تضاد کو کیسے حل کیا جائے کہ آنحضرت ﷺ کے آخری نبی ہونے کے با وجود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بحیثیت نبی اللہ دوبارہ مبعوث ہونے پر بھی ایمان لانا ضروری ہو۔یہی وجہ ہے کہ ملاں آیت خاتم النبیین کو حضرت عیسی علیہ السلام کے خیالی صعود سے جوڑتا ہے اور یہ کام وہ ایسی چالاکی سے کرتا ہے کہ عام مسلمان اس کی اس چال کو سمجھ نہیں سکتا۔وہ اپنے موقف کی یوں تعمیر کرتا ہے:۔حضرت عیسی علیہ السلام ایک خاص مقصد کی خاطر آسمان پر اٹھائے گئے اور انجام کا روہ زمین پر واپس لائے جائیں گے۔2 آخری نبی کے ظہور کے بعد کسی پرانے نبی کا نزول خاتمیت کی مہر کو نہیں تو ڑتا۔۔3 خدائی فرمان میں تضاد پیدا کئے بغیر آخری زمانہ میں ایک نبی کی ضرورت بھی پوری ہو جائے گی۔بعض لوگ ایک تیر سے دو شکار کرنا بھی جانتے ہیں۔لیکن حقیقت میں وہ اپنے ذہن کی کبھی کو خدا کی طرف منسوب کر کے ایک نا قابل معافی جرم کا ارتکاب کرتے ہیں۔ہمیں یقین ہے کہ یہ لغو اور عجیب وغریب قصہ گھڑ کر دیگر فوائد کے علاوہ سب سے بڑا فائدہ ملاں یہ حاصل کرنا چاہتا ہے کہ وہ خود کسی نہ کسی طرح الہی فرستادہ کی اطاعت سے بچ جائے۔یوں ایک طرف تو نبوت سے