الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 628 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 628

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 597 کر ہر زمانہ کے لئے قبول کرنا پڑے گا۔اس امر کا احتمال کہ آدم کی قوم انبیاء کو جھٹلا کر مغضوب ہو جائے گی کیا خدا تعالیٰ کیلئے کافی جواز تھا کہ وہ حضرت آدم کو مبعوث ہی نہ فرماتا۔اگر یہ خوف کہ لوگ امت محمدیہ میں سے مبعوث کئے گئے نبی کا انکار کر دیں گے، نبوت کو ہمیشہ کیلئے ختم کر دینے کا مناسب جواز ہے تو اس کو اور بھی زیادہ شدت کے ساتھ خود اسلام کے مقدس بانی ﷺ کی بعثت کی راہ میں روک بن جانا چاہئے تھا۔کیا آپ ﷺ سب نبیوں سے افضل نہیں؟ یقیناً ہیں۔اور سارا عالم اسلام اس پر گواہ ہے، تو سب انبیاء سے افضل ہونے کے باعث آپ ﷺ کا انکار خدا تعالیٰ کے سب سے زیادہ قہر کا موجب ہونا چاہیئے۔افسوس ! مودودی صاحب نے اس بات کو یکسر نظر انداز کر دیا ہے کہ نہ صرف آنحضرت ﷺ کی زندگی میں دنیا بھر کی بیشتر آبادی نے آپ کے کا انکار کر دیا تھا بلکہ آج بھی بنی نوع انسان کی تین چوتھائی آبادی آپ ﷺ کی سچائی کی منکر ہے۔زیادہ سے زیادہ انسانی آبادی کے ایک چوتھائی حصہ کو آنحضرت ﷺ کا پیروکار کہا جا سکتا ہے لیکن کیا وہ بھی صحیح معنوں میں مسلمان کہلا سکتے ہیں؟ کیا ان کا آپ ﷺ پر ایسا سچا ایمان ہے کہ وہ حقیقی مومن شمار ہوں؟ مودودی صاحب کا خیال اس کے برعکس ہے۔مسلمانوں کی ایک ارب کی آبادی میں سے 999 فی ہزار پر انہوں نے عملاً مسلمان نہ ہونے کا فتویٰ لگا رکھا ہے چنانچہ وہ لکھتے ہیں:۔یه انبوہ عظیم جس کو مسلمان قوم کہا جاتا ہے اس کا حال یہ ہے کہ اس کے 999 فی ہزار افراد نہ اسلام کا علم رکھتے ہیں نہ حق اور باطل کی تمیز سے آشنا ہیں نہ ان کا اخلاقی نقطہ نظر اور ذہنی رویہ اسلام کے مطابق تبدیل ہوا ہے۔باپ بیٹے اور بیٹے سے پوتے کو بس مسلمان کا نام ملتا چلا 466 الله آ رہا ہے اس لئے یہ مسلمان ہیں۔4 مودودی صاحب کے اس فلسفہ کے مطابق تو بہتر ہوتا کہ خدا تعالیٰ نہ تو کوئی کتاب بھیجتا اور نہ کوئی پیغمبر تا کہ بیچاری مخلوق کو ہمیشہ کی لعنت سے چھٹکارامل جاتا۔بایں ہمہ مودودی صاحب حضرت آدم سے لے کر خیر الانبیاء ﷺ تک خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجے گئے پیغمبروں کے سلسلہ کو جائز ٹھہراتے ہیں۔اگر فرستادوں کی تکذیب کی وجہ سے منکرین پر خدا کی لعنت پڑتی رہی ہے تو ایک اور نبی کے اضافہ سے کونسی قیامت ٹوٹ پڑے گی۔